خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد 17 391 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء آپ صلی ھما السلام کے وضو کے بقیہ پانی میں برکت ڈھونڈتے تھے اور آپ صلی اٹھا لی ایم کے لب مبارک کو متبرک سمجھتے تھے اور اگر ان میں یہ اطاعت، یہ تسلیم کا مادہ نہ ہوتا بلکہ ہر ایک اپنی ہی رائے کو مقدم سمجھتا اور پھوٹ پڑ جاتی تو وہ اس قدر مراتب عالیہ کو نہ پاتے۔ میرے نزدیک شیعہ، سنیوں کے جھگڑوں کو چکا دینے کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے۔“ 66 اب یہ دلیل کیسے بنی جب تک مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں سمجھیں گے نہیں آپ کو سمجھ نہیں آئے گی۔ فرماتے ہیں : ”میرے نزدیک شیعہ سنیوں کے جھگڑوں کو چکا دینے کے لئے یہی ایک دلیل کافی ہے کہ صحابہ کرام میں باہم پھوٹ ہاں با ہم کسی قسم کی پھوٹ اور عداوت نہ تھی کیونکہ ان کی ترقیاں اور کامیابیاں اس امر پر دلالت کر رہی ہیں ۔“ وہ جو شیعہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی پھوٹ تھی یعنی حضرت علی کے اختلافات تھے۔ فرمایا اگر پھوٹ ہوتی تو یہ ترقیات ہو ہی نہیں سکتی تھیں ۔ جو عظیم تر ں ۔ جو عظیم ترقیات خصوصاً خلفائے راشہ راشدین کے زمانے میں نصیب ہوئی ہیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان کا پھوٹ کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ پھوٹ ہو اور ترقیات! یہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کیسی پختہ اور عمدہ دلیل لائے ہیں کہ میرے نزدیک تو یہی ایک دلیل کافی ہے مگر ان کے لئے کافی ہے جو عقل رکھتے ہیں جو غور کرنے کی عادت رکھتے ہیں۔ عامتہ الناس کے لئے تو پکی سے پکی ، بڑی سے بڑی دلیل بھی پیش کریں تو سمجھ کچھ نہیں آتی۔ عامۃ الناس کیا ان عامۃ الناس کے علماء تو ان سے بھی زیادہ ناسمجھ ہیں۔ دلیل کی بات ماننا تو ان کے نفس کی انا کے خلاف ہے۔ جنہوں نے بے شمار انانیت کے بت سینوں میں سجائے ہوئے ہوں یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کے منہ سے دلیل کی بات سن کر اپنا سرتسلیم خم کریں۔ نا سمجھ مخالفوں نے کہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا یا گیا مگر میں کہتا ہوں یہ صحیح نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہوکر بہہ نکلی تھیں ۔“ 66 اب عام دلیل جو ہے وہ دلیل جو ہم سنتے آئے ہیں وہ نہیں دی جارہی ، ایک بالکل الگ دلیل ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دل کی نالیاں اطاعت کے پانی سے لبریز ہو کر بہر نکلی تھیں، یعنی رسول اللہ صل الا السلام