خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 389

خطبات طاہر جلد 17 389 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء ادبار اور تنزل کے نشانات ہیں۔ مسلمانوں کے ضعف اور تنزل کے منجملہ دیگر اسباب کے باہم اختلاف اور اندرونی تنازعات بھی ہیں۔ وو اور بھی وجوہات ہیں تنزل کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت ساری وجوہات پیدا ہوئیں جس کے نتیجہ میں انہوں نے تنزل اختیار کیا مگر ایک وجہ جو بہت کڑی وجہ ہے وہ باہمی اختلاف تھے۔ پس اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اس میں یہی تو ستر ہے۔ اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہوسکتی جب تک اطاعت نہ کی جائے ۔“ جماعت کے سر پر خدا کا ہاتھ تب ہوگا جب وہ جماعت ہوگی اور جماعت ہو نہیں سکتی جب تک ایک شخص کی اطاعت نہ کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ پیغمبر خدا صلی السلام کے زمانہ میں صحابہ بڑے بڑے اہل الرائے تھے ۔“ اب دیکھیں ان کی رائے کی کتنی طاقت تھی اور اس کو کس طرح مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے ثابت کیا ہے۔ یہ تو نہیں تھا کہ جو عرب رسول اللہ صلی ایم کے سامنے سرتسلیم خم کر بیٹھے تھے اس وجہ سے تھے کہ نعوذباللہ من ذلک بے وقوف تھے یا ان کی اپنی رائے کوئی نہیں تھی۔ اس مضمون کو چھیڑتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بڑے اہل الرائے تھے خدا نے ان کی بناوٹ ایسی ہی رکھی تھی وہ اصول سیاست سے بھی خوب واقف تھے کیونکہ آخر جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام خلیفہ ہوئے اور ان میں سلطنت آئی تو انہوں نے جس خوبی اور انتظام کے ساتھ سلطنت کے بارگراں کو سنبھالا ہے اس سے بخوبی معلوم ہو سکتا ا ہے کہ ان میں اہل الرائے ہونے کی کیسی قابلیت تھی ۔“ 66 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رسول اللہ صلی السلام کے سامنے لگتا ہے کوئی رائے ہی نہیں اگر کوئی رائے دیتے بھی تھے تو بعض دفعہ رسول اللہ صلی السلام کی رائے اس کے اوپر غالب آ کر یہ پھر ایک دم اپنی رائے کو مٹا دیا کرتے تھے مگر اطاعت کی روح تھی ۔ جب صائب الرائے بنے ، جب خدا تعالیٰ نے حکومت