خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 387
خطبات طاہر جلد 17 387 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بہت بن سکتی ہے۔ (دیکھنے میں بڑے توحید پرست ہوں گے مگر ان کے دلوں میں بہت آباد ہیں۔ ) صحابه رضوان ا سوان اللہ علیھم اجمعین پر کیسا فضل تھا اور وہ کس قدر رسول اللہ صلی السلام کی اطاع میں فنا شدہ قوم تھی ۔ ( فنا شدہ کا مطلب ہے دل سے ہوائے نفس کو مٹا دیا تھا۔) یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم ، قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے۔“ اطاعت اس لئے معتمد ہو یا معتمد کو حکم دینے والا ہو دونوں صورتوں میں فرمانبرداری دونوں پر لازم ہے۔ ایک پراس پہلو سے لازم ہے کہ جس بات پر وہ مامور ہے اسی کا حکم دے اس سے زائد نہ دے اور ند نہ دے اور وقت پر جو فیصلہ کرنا ہو اپنی سوچ کے مطابق کرے مگر کوشش یہی ہو کہ جو عمومی ہدایتیں ہیں ان کے تابع رہنا ہے۔ معتمد کو یہ اختیار نہیں کہ وقت پر کوئی حکم بھی دے سکے۔ اُس نے صرف اسی کی اطاعت کرنی ہے جو اس کو کہہ دیا گیا اس کے دائرے میں محدود ہو چکا ہے اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا، اس سے کم نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ فرشتوں کے متعلق اللہ فرماتا ہے نہ وہ زیادہ کر سکتے ہیں نہ وہ کم کر سکتے ہیں بعینہ وہی کرنا ہو گا جو ان کو کہا گیا ہے۔ کمی اور زیادتی کے مواقع دوسرے اولوالامر کے لئے ضرور پیدا ہوتے رہتے ہیں کیونکہ صورت حال بدلنے کے نتیجے میں موقع پر ایک صاحب امر کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ موقع پر جو فیصلہ کرے گا اس کا وہ ذمہ دار ہوگا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس بات کی بہت احتیاط کرتے تھے اور کبھی موقع کا فیصلہ کرنا پڑے اور یاد نہ ہو کہ رسول اللہ صلی السلام اس بارے میں کیا چاہتے ہیں اور کیا فرما چکے ہیں تو پھر اپنی فطرت کے اندر جو اطاعت نے ایک یگانگت گھول دی ہے اس سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ وہ یگانگت رسول اللہ صلی لا السلام کی ذات کے ساتھ تھی جو اطاعت کے نتیجے میں ان کی فطرت میں گھولی گئی تھی۔ جب اس کے حوالے سے فیصلہ کرتے تھے ضرور صحیح نکلتا تھا اور رسول اللہ صل اللہ العلیم کے سامنے حاضر ہو کر جب پیش کرتے تھے تو بعض صحابہ کہتے ہیں ساری عمر اتنی خوشی نہیں ہوتی تھی جتنی اس وقت ہوئی جب رسول اللہ صلی لا الہ سلیم نے فرمایا ہاں یہی میرا فیصلہ تھا، میں ہوتا تو یہی کرتا۔ اندازہ کریں اس یگانگت سے کیسا سرور حاصل ہوتا ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ ہوتا الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔“ اطاعت سے نور اور