خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 358
خطبات طاہر جلد 17 358 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس کتاب سے اقتباس لیا گیا ہے جس کا نام فتح اسلام ہے اور اس کے روحانی خزائن کی جلد 3 صفحہ 33 اور 34 سے یہ عبارت لی گئی ہے۔ جہاں تک میں فتح اسلام کے پیغامات کو سمجھ سکا ہوں میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اس کے ہر پہلو پر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ عمل کر کے دکھاؤں اور جماعت کو بھی اس پر عمل کرنے کی طرف بلاتا رہوں اور جو تحریر میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے اس کے متعلق میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کے ہر پہلو پر توجہ کی میں نے اپنی پوری دیانتداری سے کوشش کی ہے اور میں اس بات کا گواہ ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو جو توقعات اپنی جماعت سے ! سے یعنی اپنی جماعت اپنی جماعت کے اعلیٰ ممبروں سے تھیں، میں اس بات کا گواہ ہوں کہ خدا تعالیٰ نے بعینہ مجھے یہ توفیق بخشی ہے کہ میں وہی توقعات آپ سب سے رکھ سکوں ۔ اور جب میں اس بات پر غور کرتا ہوں تو میری روح سجدہ ریز ہو جاتی ہے کہ سو سال پہلے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی توقعات آج کتنی شان سے پوری ہو رہی ہیں۔ پس اس میں میں اپنے وجود کی ایک ادنیٰ بھی بڑائی نہیں سمجھتا ۔ نہ آپ کی قربانی کو وہ مقام دیتا ہوں جس کے نتیجہ میں گویا جماعت پر کوئی احسان ہو۔ مجھ پر بھی اللہ کا احسان ہے آپ پر بھی اسی اللہ کا احسان ہے۔ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جوتیوں کے صدقے یہ خدمات سرانجام دے رہا ہوں آپ بھی انہیں جو تیوں کے صدقے یہ خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ پس یقین کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کو اس زمانہ کا مامور بنایا گیا تھا ان کی جوتیاں اٹھانا ہمارا فخر ہے۔ آپ کے پاؤں کی خاک ہمارا فخر ہے، ہماری آنکھوں کا سرمہ ہے بعینہ یہ وہی مضمون ہے جو صحابہ کے رسول اللہ صلی السلام کے ساتھ تعلق سے ثابت ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی السلام کے پیچھے پیچھے پھرا کرتے تھے ۔ آپ صلی شما اسلام کی قدموں کی خاک کو اپنے منہ پر ملتے تھے۔ آپ صلی شما السلام کی کشف برداری کو اپنا اعزاز سمجھا کرتے تھے۔ یہاں تک آتا ہے کہ رسول اللہ صلی انا کی کمی جب گلی کیا کرتے تھے تو بڑھ بڑھ کر صحابہ اپنے ہاتھوں میں لیتے تھے۔ (صحیح البخاری ، کتاب الشروط ، باب الشروط في الجهاد۔۔ حدیث نمبر : 2731) یہ وہ مقام اور مرتبہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی السلام کے غلام کامل کی صورت میں دوبارہ ہم پر ظاہر فرمادیا۔ پس یہ کہنا تو آسان ہے یعنی یہ کہنا تو بظاہر آسان ہے کہ صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا رض الحکم جلد 5 نمبر 45 صفحہ :4 مؤرخہ 10 دسمبر 1901ء)