خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 346

خطبات طاہر جلد 17 346 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء آپ کی نیکی کو ذرا سا میلا کر دے گی ۔ اس کے نتیجے میں اللہ اپنا وعدہ تو بہر حال پورا کرے گا ، ضرور دے گا اور زیادہ دے گا لیکن ممکن ہے خدا کی رضا جوئی سے آپ محروم رہ جائیں ، خدا کی رضا حاصل کرنے سے آپ نسبتاً محروم رہ جائیں ۔ اس لئے میرا مشورہ یہی ہے کہ نیتوں کو بالکل پاک اور صاف کریں اور کوشش کریں کہ اس حالت میں تنگی میں خرچ کریں کہ اگر خدا اس کے مقابل پر دنیا کی آسائش نہ بھی عطا فرمائے تو روح سجدہ ریز رہنی چاہئے ۔ روح اللہ سے راضی رہنی چاہئے ۔ اگر یہ کریں گے تو لازماً اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی آپ کے حالات بدلے گا اور آخرت میں بھی آپ کو وہ جزا دے گا جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ پھر فرمایا وَ اللهُ الْغَنِيُّ وَ انْتُمُ الْفُقَرَاء یہ جو بخل کی بات ہو رہی ہے اس پہ ہو سکتا ہے کسی احمق کو یہ خیال گزرے کہ اللہ ہم سے مانگ رہا ہے اور بعض احمق اور منافق یہ کہتے بھی ہیں کہ اللہ اگر غنی ہے، اللہ نے سب کچھ دیا ہے تو ہم سے کیوں مانگتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہم امیر ہیں اور اللہ فقیر ہے۔ اس جاہلانہ خیال کو رد کرتے ورد کرتے ہوئے اللہ تعاد ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واللهُ الْغَنِيُّ وَ انْتُمُ الْفُقَرَاء یا د رکھو اللہ غنی ہے اور تم فقیر ہو۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بندوں کو ملا ہے اللہ ہی نے تو دیا ہے وہ اپنے گھر سے تو نہیں لے کے آئے۔ پس جو کچھ دیا ہے اس کو اللہ کے حضور پیش کرنے میں اگر یہ دعویٰ کریں کہ خدا فقیر ہے جو ہم سے مانگ رہا ہے تو اس سے بڑی جہالت اور کیا ہو سکتی ہے۔ جس میں سے وہ مانگ رہا ہے وہ اسی کا دیا ہوا ہے اس لئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بندے امیر ہوں اور خدا فقیر ہو۔ مانگے یا نہ مانگے فقیر بندے ہی رہیں گے۔ اللہ جس نے عطا کیا ہے وہ کبھی فقیر نہیں ہو سکتا، وہ بہر حال غنی رہے گا اور غنی کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ بے نیاز ، وہ تمہاری باتوں سے بے نیاز ہے تم چاہو تو اس کو فقیر کہتے رہو لیکن یاد رکھو کہ اس کہنے سے خدا کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس کی شان کریمی تمہاری پہنچ سے بہت بالا ہے۔ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ فرمایا اگر تم لوگ پھر جاؤ یعنی اللہ تعالیٰ کی ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرو اور اعراض کرو تو یاد رکھو يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم تمہارے بدلے ایک اور قوم لے آئے گا وہ پھر تمہارے جیسے نہیں ہوں گے۔ اس میں جماعت احمدیہ کو ، چونکہ میرے نزدیک جماعت احمد یہ ہی خصوصیت سے مخاطب ہے، ایک بہت گہرا یقین کا پیغام ہے۔ فرمایا اگر تم میں سے بعض لوگ ایسے ہوں جو یہی سمجھتے