خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 296
خطبات طاہر جلد 17 296 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء پس احترام کے طور پر میں بھی جب دعا مانگتا ہوں اسی انی کے ساتھ مانگتا ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی ا السلام نے الفاظ نہیں بدلے اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ دعا مانگی جائے ۔ آپ بھی یہی کریں مگر ساتھ خدا تعالیٰ سے التجا کیا کریں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے انبیاء کی جماعتوں کو بھی شامل کر دیا تھا اسی طرح ہمارے اہل خانہ، ہمارے دوست، ہمارے قریبی جن سے ہم پیار کرتے ہیں ، جو ہم سے پیار کرتے ہیں ان سب کو اس دعا میں شامل فرمالے کیونکہ یہ دعا بہت ہی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر یہ مقبول ہو گئی تو سب کچھ مقبول ہو گیا۔ جسے اللہ کی محبت نصیب ہو جائے اسے اور کچھ بھی نہیں چاہئے کیونکہ اللہ کی محبت کے اندر ساری محبتیں ، تمام دنیا کے وہ مسائل جن مسائل سے انسان کو واسطہ پڑتا ہے وہ اس میں شامل ہو جاتے ہیں ، ان سارے مسائل کا حل اللہ کی محبت ہے۔ پس اس میں ایک ادنیٰ بھی مبالغہ نہیں کہ اللہ کی محبت کے نتیجے میں آپ کی زندگی کے سارے مقاصد پورے ہو جائیں گے اور یہ ہے تو سب کچھ رہ گیا۔ اس لئے آنحضرت صلی الا السلام کے الفاظ میں اگرچہ اپنے آپ کو محض پیش کریں کہ مجھے محبت عطا فرما لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے سب قریبیوں اور عزیزوں کو جن سے آپ کو پیار ہے یا جو آپ سے پیار کرتے ہیں ان کو بھی شامل کر لیں ۔ اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات اسی مضمون کے تعلق میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ فرمایا: دو یا د رکھو میں جو اصلاح خلق کے لئے آیا ہوں جو میرے پاس آتا ہے وہ اپنی استعداد کے موافق ایک فضل کا وارث بنتا ہے لیکن میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ وہ جو سرسری طور پر بیعت کر کے چلا جاتا ہے اور پھر اس کا پتا بھی نہیں ملتا کہ کہاں ہے اور کیا کرتا ہے؟ اس کے لئے کچھ نہیں ہے۔ وہ جیسا تہی دست آیا تھا تہی دست جاتا ہے۔“ ہورہی پس جو آج کل جو بہار اتبلیغ کا غیر معمولی دور چل رہا ہے جن ممالک میں بھی خصوصیت سے تبلیغ ہو رہی ہے ان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مغرب میں جرمنی سر فہرست ہے اور ان کے ایجنڈے میں بھی تبلیغ کے موضوع پر بہت زور دیا گیا ہے، ان کو میں یاد دلاتا ہوں کہ تبلیغ کے ذریعہ محض تعداد بڑھانا مقصود نہیں ہے کیونکہ محض تعداد کی کوئی بھی حیثیت نہیں ۔ تبلیغ کے ذریعہ ایسے لوگ چاہئیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قریب ہوں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قرب ان کو ان