خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 292

خطبات طاہر جلد 17 292 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء بھاگ سکتے ہو بدوں سے دور بھاگو ۔ اور نیکوں کی مجلس میں بیٹھو کیونکہ بدوں سے خالی بھا گنا کافی نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کس طرف بھاگو ۔؟ اگر بدوں سے بھا گو گے تو اس سے بہتر مجلس پیش نظر ہونی چاہئے اور یہی وہ مضمون ہے جسے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی ای ایم نے خوب کھول کھول کر بیان فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی مضمون پر بہت روشنی ڈالی ہے۔ پہلی روایت جو اس رض وقت میرے سامنے ہے یہ ہے یہ جامع الترمذی سے سے لی گئی ہے اور حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں: عَنِ الأَغَرِ أَبِي مُسْلِمٍ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةً وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي که اغر ابو سلم رض ابوہریرہ اور سعید الخدری کے پاس گئے اور ان سے سو سے سوال کیا جس کے جواب میں رض ابو ہریرہ یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی لا السلام نے فرمایا کہ جو قوم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتی ہے اسے فرشتے اپنے جلو میں لئے رہتے ہیں ان کو رحمت الہی ڈھانچے رکھتی ہے اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے مقربین میں بھی کرتا ہے۔“ 66 (جامع الترمذي، أبواب الدعوات، باب ماجاء في القوم يجلسون فيذكرون الله - - ، حدیث نمبر : 3378) یہ جو آخری فقرہ ہے جو بہت ہی اہمیت کا حامل ہے ۔ آنحضور صلی یا الہیم نے فرمایا کہ جو قوم اللہ کے ذکر میں مشغول رہتی ہے اس پر خدا کے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ اب ذکر الہی تو ایک دن رات کا مومن کا مشغلہ ہے لیکن مجلس کے طور پر اگر ذکر الہی ہو رہا ہو تو ایک خاص موقع بن جاتا ہے اور اس وقت آنحضرت صلی الا السلام کے ارشاد کے مطابق فرشتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ یہ مضمون حضور اکرم صلیا تم نے اور بھی بہت سی جگہ بیان فرمایا ہے۔ میں اس طرف خصوصیت سے توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جو فرشتوں کے نزول کے عادی ہوں، جن کی مجالس پاک ذکر سے بھری ہوئی ہوں ، وہ ایک لمحہ کے لئے برداشت کیسے کر سکتے ہیں کہ ان مجالس کی طرف بھی رجوع کریں جہاں ذکر الہی کی بجائے دین پر گندا چھالا جاتا ہو۔ اس لئے دونوں باتیں اکٹھی چل ہی نہیں سکتیں۔ جو لوگ ذکر الہی کی مجالس کے عادی ہوں ان کا وہم و گمان بھی اس طرف نہیں جا سکتا کہ بدوں کی مجلس میں بھی جھانک کے دیکھیں کہ وہ کہیں بری باتیں تو نہیں کر رہے یا کوئی اچھی بات کر رہے ہیں۔ اس لئے جو غلط فہمیاں میں نے پچھلے خطبہ میں دور کی تھیں ان کو پھر میں دوبارہ آپ کے سامنے کھول کر رکھ رہا ہوں کہ اس غلط نہی میں ہرگز مبتلا نہ ہوں کہ نیک لوگ