خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page iii
1 بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ادارہ ظاہر فاؤنڈیشن احباب جماعت کی خدمت میں خطبات طاہر کی 17 ویں جلد پیش کرنے کی سعادت پارہا ہے۔ الحمد لله على ذلك ۔ خطبات طاہر کی یہ جلد سید نا حضرت خلیفہ المسیح الرابع کے 1998ء کے باون (52) معرکۃ الآراء اور پر معارف خطبات جمعہ پر مشتمل ہے۔ یہ سال ایک تاریخی اہمیت کا حامل سال ہے۔ اس سال حضور انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے ارشادات و ملفوظات کی روشنی میں عملی اصلاح ، حصول تقویٰ ، حصول معرفت ، محاسبه نفس، تربیت اولاد، انفاق فی سبیل اللہ ، تبتل الی اللہ کا ایک سلسلہ جاری فرمایا۔ اس کے متعلق آپ فرماتے ہیں: دو میرے نزدیک جماعت کی تربیت کے لئے آج کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کو پڑھ کر سنانے سے بہتر اور کوئی طریق نہیں ہے۔ اتنا گہرا اثر رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ ، اس طرح دل کی گہرائی سے نکل کے دل کی گہرائی تک ڈوبتے ہیں اور ایک ایسے صاحب تجربہ کا کلام ہے جس کی بات میں ادنی بھی جھوٹ یا ریا کی ملونی نہیں ہے۔ ہر بات جو کہتا ہے وہ سچی کہتا ہے اس سے زیادہ دل پر اثر کرنے والی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ پس اب میں اسی طریق کو اپناتے ہوئے جو گزشتہ چند مہینوں سے میں نے اپنایا ہوا ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں اور جہاں تشریح کی ضرورت ہوئی وہاں تشریح کروں گا۔“ (خطبہ جمعہ 13 فروری 1998ء) حضور انور نے احمدیوں کو متحد ہو کر دعاؤں کی تلقین فرماتے ہوئے 12 دسمبر 1997ء کے خطبہ میں پاکستانی قوم کو تنبیہ فرمائی تھی۔ امسال بھی حضور انور نے برصغیر پاک وہند میں ایٹمی دھماکوں کے حوالہ سے باہمی پیچیدہ سیاسی صورتحال پر 29 مئی 1998ء کے خطبہ جمعہ میں تبصرہ فرمایا اور ایٹمی تابکاری کے حوالہ سے ہومیو پھینک دوائیں تجویز فرمائیں ۔ حضور نے جماعت احمدیہ کو دعاؤں کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ: