خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 285
خطبات طاہر جلد 17 285 خطبہ جمعہ 24 اپریل 1998ء مسیح موعود علیه لصلوة والسلام کا یہ اسوہ ہے تو اپنا فیصلہ خود کر لیں کہ کسی شمار میں آئیں گے۔ مجھ کو سلام کرنے آیا ہے۔ لعنت ہے ایسے سلام پر جو خدا اور اس کے رسول صلی ال سلیم اور دین کے بزرگوں کے خلاف بکواس کرنے والے کا سلام ہو۔ اس سلام کو تو لعنت کے ساتھ لوٹانا چاہیئے ۔ ہرگز اس سلام پر خوش ہونا اور اپنے آپ پر فخر کرنا کہ فلاں صاحب نے ہمیں عزت سے یاد کیا ہے ایک حماقت کی حد ہے، دھوکہ بازی ہے، جھوٹ ہے اور اپنے نفس کی انا میں پڑ کر آپ اپنا دین کھو دیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: مجرم وہ ہے جو اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق کاٹ لیوے۔ اس کو تو حکم تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے لئے ہو جاتا اور صادقوں کے ساتھ ہو جاتا مگر وہ ہوا و ہوس کا بندہ بن کر رہا اور شریروں اور دشمنان خدا اور سول سے موافقت کرتا رہا۔ پس جو شخص بھی شریروں کی مجلس کو قبول کرتا ہے اور اچھوں سے الگ رہتا ہے اس کے متعلق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد ہے کہ زندگی میں چاہئے تھا کہ وہ تعلق کاٹ لے۔ مرنے کے بعد پھر وقت گزر جائے گا پھر ان کا تعلق خدا سے جو اس دنیا میں کاٹا گیا ہمیشہ کے لئے کاٹا گیا اور آخرت میں پھر یہ تعلق بجڑ نہیں سکتا۔ فرماتے ہیں: جو خدا ( تعالیٰ) کے لئے ہوتا ہے خدا ( تعالیٰ ) اُس کا ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ اپنی طرف آنے والے کی سعی اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا۔ یہ ممکن ہے کہ زمیندار اپنا کھیت ضائع کرلے۔ نوکر موقوف ہو کر نقصان پہنچاوے، امتحان دینے والا کامیاب نہ ہو مگر خدا کی طرف سعی کرنے والا کبھی بھی نا کام نہیں رہتا۔ اُس کا سچا وعدہ ہے کہ وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۔ (العنكبوت:70) کہ وہ لوگ جو ہمارے رستوں پر چلتے ہیں یا وہی لوگ ہیں جو خدا کی خاطر غیروں سے تعلق کاٹ لیتے ہیں تو ان کا سفر خدا کی طرف ضرور شروع ہو جاتا ہے۔ یہی میں نے شروع میں آپ کو بتایا تھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ خدا کی طرف آپ کا سفر آسان ہو تو خدا کی خاطر بعض لوگوں سے تعلق کاٹیں اور جب خدا کی خاطر بعض لوگوں سے تعلق کاٹیں گے تو اللہ آپ سے بہت زیادہ تعلق رکھے گا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی کی خاطر کسی کو چھوڑا جائے اور وہ بھی منہ نہ لگائے ۔ اب دنیا کے روز مرہ کے دستور میں