خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد 17 268 خطبہ جمعہ 17اپریل 1998ء دیں گے، ، اسی کفر کے ساتھ ان کے دم کھینچے جائیں گے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ اور اللہ تعالیٰ خوب اچھی طرح جانتا ہے بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ ان باتوں کو جو یہ چھپاتے تھے یا چھپایا کرتے تھے۔ اب میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صل الله السلام کی دو احادیث حسد کے متعلق پیش کر کے اس مضمون کو ختم کروں گا۔ یہ سارا مضمون حسد کا ہے۔ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ آگ لگی بیٹھی ہے، مصیبت پڑی ہوئی ہے اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی نیکی تھوڑی بہت تھی بھی تو اس حسد کی آگ میں جل جائے گی، نیکی کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ 66 فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ - أَوْ قَالَ : الْعُشْبَ “ (سنن أبي داؤد، كتاب الادب، باب فى الحسد ، حدیث نمبر : 4903 ) حطب یا عشب فرمایا آپ صلی ہم نے ۔ ابن ماجہ نے بھی اسی حدیث کو لیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی لا الہ سلم نے فرمایا حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اسی طرح بھسم کر دیتا ہے جس طرح آگ ایندھن کو اور خشک گھاس کو بھسم کر دیتی ہے۔ تو وہ جو نقشہ ہے دلوں کا اس کی تفصیل حضور اکرم صلی السلام نے بیان فرمائی ہے کہ کیوں یہ لوگ رفتہ رفتہ ہر قسم کی نیکی سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ حسد ایک ایسی بد بخت آگ ہے کہ اگر دل میں کوئی نیکی تھی بھی تو خشک گھاس کی طرح جل جائے گی یا خشک لکڑی اور ایندھن کی طرح جس کو آگ کی خاطر بنایا جاتا ہے اس ایندھن کی طرح ان کی نیکیاں جل جائیں گی۔ حضرت رسول اللہ صلی لا الہ ایم کا حسد کے متعلق فرمان تھا کہ حسد کے نتیجے میں سب کچھ ضائع ہو جاتا ہے۔ اس پہلو سے میں جماعت کو متنبہ کرتا ہوں کہ دینی حسد تو آپ کے حصہ میں بہر حال نہیں ہے۔ ان نحوستوں سے حسد کی وجہ کون سی ہے پ کے پاس لیکن آپس کے حسد سے بچیں۔ مجھے یہ فکر ہے کہ جماعت میں بہت سے لوگ ہیں جو ایک دوسرے کی نیکیوں پر حسد کرتے ہیں ، ایک دوسرے کی ایسی خوبیوں پر حسد کرتے ہیں جو ان میں نہیں ہیں۔ ایسے اموال پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے اُن کو عطا فرمائے ہیں ، ان کو نہیں عطا کئے اور ایسے عہدوں پر حسد کرتے ہیں جو جماعت کی طرف سے اُن کو عطا ہوئے اور ان کو نصیب نہیں ہیں۔ آر یہ روز مرہ کا قصہ ہے جو میرے سامنے آتا رہتا ہے۔