خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 258
خطبات طاہر جلد 17 258 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء مگر جو خاص ایمان رکھتا ہو اور ہر حال میں خدا کے ساتھ ہو اور دکھ اٹھانے کو تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اُس سے دُکھ اُٹھا لیتا ہے۔“ وہ خدا کی خاطر دُکھ اٹھائے اللہ اس سے دُکھ اٹھالیتا ہے۔ کتنا پیارا کلام ہے، کتنا فصیح و بلیغ کلمہ ہے کہ جو خدا کی خاطر دُ کھ اٹھا لیتا ہے اللہ اس کا دُکھ اٹھا لیتا ہے۔ اور دو مصیبتیں اس پر جمع نہیں کرتا ۔ دُکھ کا اصل علاج دُکھ ہی ہے اور مومن پر دو بلائیں جمع نہیں کی جاتیں ۔ 66 پس جو اللہ کی خاطر دُکھ اٹھاتا ہے اللہ اُس کے دُکھ اٹھاتا ہے اور خدا کے غضب کی بلاء اس کے ساتھ شامل نہیں ہوتی ۔ یہ دو بلائیں بیک وقت اس کو سزا نہیں دیتیں کہ بندوں کی سزا بھی پہنچ رہی ہو اور اللہ ۔ کی سزا بھی پہنچ رہی ہو۔ پس اللہ اس کا دُکھ اٹھا لیتا ہے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی طرف سے اس کو محفوظ قرار دیتا ہے اور اسے کبھی پھر خدا کی طرف سے کوئی ناراضگی کا دُکھ نہیں پہنچتا۔ ایک وہ دُکھ ہے جو انسان خدا کے لئے اپنے نفس پر قبول کرتا ہے اور ایک بلائے ناگہانی ۔ ( بھی ہوتی ہے ) اس بلا سے ( بھی ) خدا (اُس کو ) بچا لیتا ہے۔“ 66 اچانک آسمان سے نازل ہونے والے مصائب یا دنیا سے رونما ہونے والے مصائب ایسے ہیں جن سے خدا تعالیٰ اس کو بچاتا ہے۔ پس یہ دن ایسے ہیں کہ بہت تو بہ کرو۔“ الحکم جلد 7 نمبر 6 صفحہ:5 مؤرخہ 14 فروری 1903ء) یہ مضمون بہت باریک اور لطیف ہے مگر ایک ایک لفظ اس کا حالات پر صادق آتا ہے۔ بعض لوگ شاید غلط فہمی سے یہ سمجھیں کہ بلائے ناگہانی تو مومنوں پر بھی پڑ جاتی ہے۔ بلائے ناگہانی کی قسمیں الگ الگ ہیں ۔ ایک بلائے ناگہانی ہے جس کو حادثاتی بلا کہتے ہیں ۔ ایک بلائے ناگہانی ہے نا ہیں۔ جو خدا کی ناراضگی کے ساتھ مل کر پڑتی ہے۔ تو جو حادثاتی بلائے ناگہانی ہے اس میں تو خدا کے بڑے بڑے نیک بندے بھی مارے جاتے ہیں ہرگز اس کا ذکر نہیں ہو رہا۔ خدا سے تعلق یا عدم تعلق کی بات ہو رہی ہے۔ پس بلائے ناگہانی سے مراد وہ بلائے ناگہانی ہے جو کسی شخص کو مثلاً خدا کے غضب کے نتیجہ میں گھیر لے یا وہ بلائے ناگہانی جس کے نتیجہ میں دنیا سمجھے کہ اللہ نے اس بندے کو چھوڑ دیا ہے۔