خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 15
خطبات طاہر جلد 17 15 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء کے بیٹے صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب اور وہ ہر بات بڑے گہرے منصوبہ سے کیا کرتے تھے کسی جگہ منصوبہ بندی کی تعلیم نہیں پائی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سرشت میں منصوبہ بندی ڈالی ہوئی تھی۔ بہت گہری نظر تھی ، بہت گہرے منصوبہ سے کام کیا کرتے تھے۔ یہ خوبی امریکہ کے موجودہ امیر نے بھی اپنے بزرگ باپ سے ورثہ میں پائی ہے اور اسے آگے بڑھایا ہے، پیچھے نہیں ہٹنے دیا اور یہ آگے بڑھنا کوئی پرانے بزرگوں کی گستاخی نہیں ۔ ان کی اپنی دعائیں یہی ہوتی تھیں کہ ہماری اولاد ہماری نیکیوں میں ہم سے آگے بڑھ جائے تو ان کی تمنا پوری ہوئی اس پر کسی اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے بعد جاپان 30 پاؤنڈ ۔ جاپان پر جو مالی مشکلات کا دور آیا ہے اس کے پیش نظر ان کا 30 پاؤنڈ فی چندہ دہندہ ہی بہت بڑی بات ہے کیونکہ بہت سے لوگ نکالے گئے ہیں، بہت سی تجارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ نمبر چار بیلجیئم ہے جس کوفی چندہ دہندہ 11 پاؤنڈ 64 پیس دینے کی توفیق ملی ہے۔ بیلجیئم کے لحاظ سے واقعی یہ بڑی بات ہے۔ بیلجیئم کے احمدی بہت سے بے روزگار ہیں اور وظیفوں پر پل رہے ہیں ان کا اس قربانی میں اتنا نمایاں حصہ لینا اور ہمیشہ بڑے استقلال سے پانچ میں سے ایک پوزیشن حاصل کرنا بہت قابل تحسین ہے اللہ ان کو بہترین جزا دے۔ جماعت جرسی جرمنی کو انہوں نے چند پینیز (Pennies) کے لحاظ سے پیچھے چھوڑا ہے یعنی جماعت جرمنی فی چندہ دہندہ بھی ابھی پانچ میں شامل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت جرمنی کا بڑا اعزاز اعزاز ہے۔ جماعت جرمنی کے فی چندہ دہندہ کی قربانی 11 پاؤنڈ 50 پیس ہے اور بیلجیئم کی فی چندہ دہندہ کی قربانی 11 پاؤنڈ 64 پیس ہے صرف 14 پینس کا فرق ہے۔ اتنی میری طرف سے جرمنی کو اجازت ہے کہ چاہیں تو اس 14 پینس کو مٹا کر آگے بڑھ جائیں اور بیلجیئم کو پیچھے چھوڑ جائیں ۔ موازنہ چندہ دہندگان : 1996ء میں چندہ دہندگان کی کل تعداد 1 لاکھ 67 ہزار 493 تھی۔ 1997ء میں یہ تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 22 ہزار 628 ہو گئی گویا اس تعداد میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پس میں نے جیسا کہ پہلے زور دیا تھا ہمیں قربانی کرنے والوں کی تعداد بڑھانا ہے کیونکہ جو بھی ایک دفعہ قربانی کرنے والوں کی تعداد میں شامل ہو جائے اللہ تعالیٰ کا قانون قرضہ حسنہ کو بڑھانے والا اس پر لاگو ہو جاتا ہے۔ اس کی نیکیاں بڑھتی ہیں ، اموال میں برکت پڑتی ہے۔ ایسا بچہ بڑا ہوتا ہے تو جو بھی کمائی کرتا ہے اس میں اللہ کا حصہ ڈالتا ہے۔ پس وقف جدید کو آئندہ نسلوں کو