خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 231
خطبات طاہر جلد 17 وو 231 خطبہ جمعہ 3 اپریل 1998ء فرضی تجویزیں اور خیالی منصوبے ہمیں کام نہیں دے سکتے ۔ ہم اس بات کے گواہ ہیں اور تمام دنیا کے سا۔ سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا۔ اب دیکھ لیں باقی کیا رہ گیا ۔ ) ہم نے اس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا ، ہم نے اس خدا کی آواز سنی اور اس کے پر زور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن بھیجا۔ سوہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ ہمارا دل اس یقین سے ایسا پر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے (پڑ ہے)، سو ہم بصیرت کی راہ سے اُس دین اور اُس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں ۔ ہم نے اس نور حقیقی کو پایا جس کے ساتھ سب ظلمانی پردے اٹھ جاتے ہیں اور غیر اللہ سے در حقیقت دل دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہی ایک راہ ہے جس سے انسان نفسانی جذبات اور ہ ظلمات سے ایسا باہر آ جاتا ہے جیسا کہ سانپ او جاتا ہے جیسا کہ سانپ اپنی کینچلی سے ( نکل آتا ہے ) ۔“ 66 (کتاب البرية ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ: 65) اب نفسانی جذبات اور ظلمات کو سانپ سے تشبیہ دی ہے اور سانپ جب پینچلی سے باہر نکلتا ہے تو ایک نئی زندگی پاتا ہے لیکن پھر ایک اور کینچلی چڑھ جاتی ہے کیونکہ جس نفسانی سانپ سے نکلنے کی آپ تعلیم دے رہے ہیں اس کے اوپر پھر کینچلی نہیں چڑھا کرتی وہ نکلتا ہے تو ہمیشہ کے لئے نکل جاتا ہے اور اس میں سانپ والی صفات مر جاتی ہیں۔ پس مثالوں کا یہ مطلب نہیں کہ سو فیصدی ہر چیز پوری آئے ، غور کرنا چاہئے کہ کن معنوں میں ہے۔ سانپوں کے گرد ایک کینچلی ہوتی ہے اس کینچلی نے ان کے زہروں کو، ان سب کو پرورش دی ہے ان کو باہر سے بچایا ہوا ہے۔ پیچلی سے نکلتا ہے تو پھر دوبارہ تازہ ہوا میں باہر ما نکلتا ہے۔ اگر سانپ اپنی عادات میں مجبور نہ ہو تو ایک دفعہ نکلنے کے بعد دوبارہ اس کینچلی میں نہیں جائے گا لیکن اس کے نفس کی بدعات ، گندگیاں پھر ایک کینچلی بناتی ہیں۔ تو مومن کے لئے ضروری ہے وہ اپنی کینچلی سے ایسا باہر آئے کہ پھر دوبارہ اس کا رُخ نہ کرے تب اللہ تعالیٰ ایک نئی زندگی عطا کہ کرتا ہے اور اسے ہر میل سے پاک فرماتا ہے۔ ایک اور بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی رنگ میں بار بار فرماتے ہیں وہ میں اب آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔