خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 216

خطبات طاہر جلد 17 ہوم 216 خطبہ جمعہ 27 مارچ 1998ء آپ صلی الہ السلام سے کثرت سے مشورہ کیا کرتے رتے تھے تھےا اور دوسرے پہلو میں یہ بات خاص طور پر پیش نظر رہے کہ جو مشورہ کرتے تھے ان کے متعلق اللہ کا حکم تھا کہ جب رسول صلی اہم فیصلہ دے دے تو پھر تم مجاز نہیں ہو کہ اس کے خلاف ہٹ سکو ۔ اب آنحضرت صلی لا الہ سلم کے مشورہ کے دو پہلو ہیں، ایک مشورہ دے رہے ہیں، ایک لے رہے ہیں ۔ جب مشورہ دے رہے ہیں تو مشورہ لینے والا مجاز ہی نہیں ہے کہ اس سے پیچھے ہٹے اور جب مشورہ لے رہے ہیں تو آپ صلی ال یک سالم مجاز ہیں کیونکہ آپ صلی اٹھا کہ ہم سے بہتر اللہ کی رضا کو اور کوئی نہیں جانتا جانتا تھا تھا۔ ۔ دونوں دونوں جگہ جگہ یہی اصول کارفرما ہے۔ جب آپ صلی اللا الہ اہم مشورہ دیتے تھے تو اس لئے اس سے ہٹنے کا احتمال ہو نہیں سکتا تھا کہ آپ صلی لا الہ سلم کا مشورہ رضائے باری تعالیٰ پر مبنی ہوتا تھا۔ جب آپ صلی الٹا ایک اہم مشورہ لیتے تھے تو اس لئے آپ صلی الا السلام کو اس کو قبول نہ کرنے کا اختیار تھا کہ جب وہ رضائے باری تعالیٰ کے کسی پہلو سے بھی خلاف ہوا آپ صلی ای ایم سے بہتر کوئی اس کو پہچان نہیں سکتا تھا۔ پس یہ نظام شوری جو آنحضرت صلی السلام کے گرد گھومتا ہے اس کے سارے پہلوؤں کو بیان کرنا تو اس وقت مشکل ہے، ناممکن ہے۔ یہ دیکھ لیں اتنا بڑا تھا۔ رسول اللہ صلی السلام کے مختلف احکامات جو مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال رہے ہیں ان کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ تو ابھی بہت سی شورا ئیں باقی ہیں جن میں میں نے خطاب کرنا ہے کبھی یہاں سے کبھی دوسرے ملکوں میں جا کر تو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب اب یہ سنبھال لیں اور آئندہ اس کو الگ رکھیں، لکھ دیں کہ یہ حدیث ہو چکی ہے یا نہیں ہوئی۔ تو انشاء اللہ باقی باتیں پھر ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم حضرت اقدس محمد مصطفی صلی شما السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آج مولوی کی ہر کوشش کو ناکام و نامراد بنادیں۔وہ احمدیت کا رستہ نہ روک سکے اور احمدیت بڑھتی رہے اور پھولتی رہے اور پھلتی رہے لیکن تقومی کی راہیں اختیار کر کے، تقویٰ سے ہٹی ہوئی راہوں پر نہیں۔ حضور نے خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا :) یہ جو سردیوں کے اوقات ہیں ان کے لحاظ سے اس دور کا یہ آخری جمعہ ہے۔ ہفتہ اور اتوار کی رات کے درمیان گھڑیاں بدل جائیں گی اور اس وقت جمعہ کے اوقات بھی بدلیں گے عصر کے اوقات بھی بدلیں گے اور نمازیں جمع کرنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔ اس لئے جن لوگوں نے دیکھا ہے ہمیں نمازیں جمع