خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 191

خطبات طاہر جلد 17 191 خطبہ جمعہ 20 مارچ 1998ء اس راہ پر چل کر میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص یقیناً یقینا اس کو حاصل کرلے گا۔“ اب مشکل راہ تو ہے مگر یقین بھی دیکھیں کیسا ہے اِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَيُلْقِيهِ ان آيات میں جو یقین ہے وہ اس تحریر میں بھی موجود ہے کہ وہ لعل مشکل تو ہے مگر اگر اس راہ پر چلو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کو حاصل کر لو گے اس میں کوئی شک نہیں ۔ ۔ اور وہ ذریعہ اور وہ راہ جس سے یہ ملتا ہے ایک ہی ہے۔ جس کو خدا کی سچی معرفت کہتے ہیں۔ در حقیقت یہ مسئلہ بڑا مشکل اور نازک مسئلہ ہے کیونکہ ایک مشکل امر پر موقوف ہے۔“ سچی معرفت کو مشکل امر بیان فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں آسان راہ اور یقینی راہ تو ہے مگر ایک مشکل امر پر موقوف ہے۔ اس مشکل کو اگر تم گوارا کر لو تو ہر دوسری مشکل آسان ہو جائے گی ۔ اگر اس سے ڈر گئے تو پھر تمہیں کچھ بھی نصیب نہیں ہوگا۔ وو در حقیقت یہ مسئلہ بڑا مشکل اور نازک مسئلہ ہے کیونکہ ایک مشکل امر پر موقوف ہے۔ فلاسفر جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے (کہ) آسمان اور زمین کو دیکھ کر اور دوسرے مصنوعات کی ترتیب ابلغ و محکم پر نظر کر کے صرف اتنا بتاتا ہے کہ کوئی صانع ہونا چاہئے ۔“ 66 مگر ایسے فلسفی بھی دنیا میں کم ہیں جو سب باتوں پر غور کر کے یہ فیصلہ کر سکیں کہ کوئی صانع ہونا چاہئے ۔ میں نے Aristotle (ارسطو) کی مثال دی تھی وہ جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے وہ بظاہر خدا کی ہستی کا قائل نہیں تھا جیسا اس کے تاریخ دان بیان کرتے ہیں لیکن اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ وہ فلسفی ان فلاسفرز میں تھا جن کی تعریف مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں۔ اس نے جب کا ئنات پر غور کیا تو اس لازمی نتیجہ تک پہنچا کہ اس کا ئنات کی ایک وجہ اول ہونی چاہئے جو کائنات کے مادہ سے تعمیر نہ ہو بلکہ اس سے وہ مادہ تعمیر ہو جو تخلیق کے نتیجہ میں پیدا ہوگا اور اس وجہ اول کے بغیر اس کا ئنات کا وجود ممکن ہی نہیں ہے۔ ارسطو کو اس لئے رہتی دنیا تک خدا تعالیٰ نے ایک عظمت عطا فرمائی کہ وہ سچا فلسفی تھا اور بات کی تہہ تک پہنچ کر جو نتیجہ اخذ کرتا تھا آج تک کوئی اس نتیجہ کو جھٹلا نہیں سکا۔ اب یہ مسئلہ جب میں نے اس کی کتابوں میں دیکھا تو اس کے لئے میرے دل میں بڑی گہری عزت پیدا ہوئی کہ واقعہ ایسے فلسفی ہیں جو سچے ہوں تو اللہ تعالیٰ خود ان کی راہنمائی فرماتا ہے۔ پس ” ترتیب ابلغ و محکم پر