خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 174

خطبات طاہر جلد 17 174 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء وَلَا يَخَافُ عُقُبُهَا کی آیت کی طرف اشارہ فرما دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی شرارتوں، اپنے کینوں ، اپنی گندگیوں کو اندر دبا کر ان کے شر کے پھیلنے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا وہ شر ضرور پھیلے گا اور ان کے لئے نقصان کا موجب بنے گا۔ الحکم جلد 6 نمبر 39 صفحہ 10 مؤرخہ 31 اکتوبر 1902ء میں درج ہے: خدا تعالیٰ نے ایک خاص قانون اپنے برگزیدوں اور راستبازوں کے لئے رکھا ہوا ہے۔ وہ ایسا ٹیکہ ہے کہ اس میں نہ نشتر کی ضرورت ہے نہ اس میں تپ آتا ہے۔ جب کوئی اس کی شرائط کو پورا کرنے والا ہو تو وہ خدا کے سایہ میں آجاتا ہے۔ تم اسے اختیار کرو تا تم ضائع نہ ہو۔ ہر شخص جو اس کو سمجھے وہ دوسرے کو سمجھاوے۔“ اب بلاؤں اور وباؤں سے بچنے کے لئے دنیا میں ٹیکوں کا رواج ہے اور ٹیکے خود بھی اپنی ذات میں نقصان پہنچانے والے ہوتے ہیں۔ نشتر لگتا ہے، سوئی چبھتی ہے اور انسان تکلیف محسوس کرتا ہے پھر اس کے بعد تپ آ جایا کرتا ہے۔ اکثر ٹائیفائیڈ کے ٹیکے لگانے والے بڑی مصیبت سے گزرتے ہیں۔ بعض دفعہ چیچک کا ٹیکہ بگڑے تو اس سے بھی بہت تکلیف پہنچتی ہے۔ تو فرمایا میں ایک ایسے ٹیکہ کی بات ٹیکہ تو کر رہا ہوں جو کوئی بھی تکلیف تمہیں نہیں پہنچائے گا۔ نہ نشتر لگے گا، نہ تپ آئے گا۔ د تم اسے اختیار کرو تا تم ضائع نہ ہو ۔ ہر شخص جو اس کو سمجھے وہ دوسروں کو سمجھا دے اور حاضر غائب کو پہنچاوے تا کہ کوئی دھوکہ نہ کھاوے“ یہ وہ نصیحت ہے جس کو اب ہمیں عام کرنے کی ضرورت ہے۔ جو حاضر ہیں ، جو سن رہے ہیں وہ غائبوں تک ان باتوں کو کرنا شروع کر دیں محض اپنے دل کی حدود تک نہ رکھیں بلکہ زبان سے نکالیں اور ارد گرد ماحول کو یہ نصیحت کریں جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے: یا درکھو محض اسم نویسی سے کوئی جماعت میں داخل نہیں جب تک وہ حقیقت کو اپنے اندر پیدا نہ کرے ۔ آپس میں محبت کرو۔ اتلاف حقوق نہ کرو۔ اور خدا کی راہ میں دیوانہ کی طرح ہو جاؤ ۔ تا کہ خدا تم پر فضل کرے۔ اُس سے کچھ باہر نہیں ( ہے )۔ الحکم جلد 6 نمبر 39 صفحہ:10 مؤرخہ 31 اکتوبر 1902ء) وہ جو ٹیکہ وہ یہ ٹیکہ ہے جس کی بات اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں۔ فرماتے ہیں