خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 172
خطبات طاہر جلد 17 172 خطبہ جمعہ 13 مارچ 1998ء پس یہ ساری نصیحتیں جو آپ کو کی جاتی ہیں یا آنحضور صلی السلام کی نصائح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں آپ سنتے ہیں تو اس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی لا الہ ایم کا کوئی بھی ذاتی فائدہ نہیں ہے۔ آپ کا فائدہ ہے اگر اس نسخہ پر عمل کریں تو آپ کو فائدہ پہنچے گا لیکن عام تیمار دار اور ان روحانی تیمارداروں کے درمیان ایک فرق بھی ہے۔ یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے تیمار دار کا حوالہ دیا ہے کہ اگر ایسا شخص طبیب کی بات نہیں مانتا تو طبیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا مگر خدا کے بندے، حقیقی بندے جو نبوت کے مقام پر فائز ہوتے ہیں ان کو ذاتی نقصان کا احساس ضرور ہوتا ہے ، طبیب کو ہو یا نہ ہو کیونکہ جب بھی وہ کسی خدا کے بندے کو ضائع ہوتے دیکھتے ہیں تو تکلیف پہنچتی ہے اس لئے یہ نقصان تو ضرور ان کو پہنچتا ہے جو عام دنیا کے طبیب کو اکثر نہیں پہنچتا۔ پس فلاح جسمانی وروحانی پانی ہے۔ (آسمان سے اترنے والا ایک پانی ہے جس کو میں فلاح جسمانی قرار دیتا ہوں۔ یعنی مسیح موعود علیہ السلام قرار دیتے ہیں) تو ( تم ) ان تمام آفات و منہیات سے پر ہیز کرو۔ نفس کو بے قید نہ کرو کہ تم پر عذاب نہ آجائے ۔“ نفس کی بے قیدی کے نتیجہ میں طرح طرح کی تکلیفیں پہنچ سکتی ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا ہے۔ ہر قسم کی ایسی عادات جو مضر صحت ہیں اگر ان کو کھلی ڈھیل دی جائے تو عجب نہیں کہ ان بد نتائج کو پیدا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے کمال رحمت سے سب دکھوں سے بچنے کی راہ بتا دی ۔ اب کوئی اگر ان دکھوں سے ، ان گناہوں سے نہ بچے تو اسلام پر اعتراض نہیں ہو سکتا ۔“ 66 البدر جلد 7 نمبر 19، 20 صفحہ: 5 ، 6 مؤرخہ 24 مئی 1908ء) وو پھر البدر جلد 3 نمبر 27 ، مؤرخہ 16 جولائی 1904ء صفحہ 4 میں آپ نے یہ نصیحت فرمائی: یہ انسان کی خوش قسمتی ہے کہ قبل از نزول بلا وہ تبدیلی کرلے لیکن اگر کوئی تبدیلی نہیں کرتا اور اس کی نظر اسباب اور مکر و حیلہ پر ہے تو سوائے اس کے کہ وہ اپنے ساتھ گھر بھر کو تباہ کر دے اور کیا انجام بھوگ سکتا ہے۔“ اب یہ باتیں اچھی طرح پیش نظر رکھیں کہ بعض دفعہ ایک انسان کی غلطی اس کے گھر کو بھی برباد کر دیا کرتی ہے۔ فرمایا خوش قسمتی ہے کہ نزول بلا سے پہلے وہ تبدیلی کرلے۔ اگر کوئی تبدیلی نہیں کرتا اور اس