خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 157
خطبات طاہر جلد 17 157 خطبہ جمعہ 6 مارچ 1998ء گے تو پھر کون سمجھے گا۔ پس آپ لوگ اس Urgency کا احساس کر کے جو میں نے کھول کر آپ کے سامنے بیان کر دی ہے خدا تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوں اور یہ عرض کریں کہ اے خدا ! یہ معاملہ تو ہماری حد سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ اول ہم کمزور اور اس لائق نہیں کہ دنیا کی اصلاح کر سکیں تیرے گزشتہ انبیاء اور پیارے بندوں میں تو نے ایسی خوبیاں رکھ دی تھیں کہ وہ دُنیا کا احساس بھی رکھتے تھے اور کمزوریوں کو دور کرنے کی صلاحیتیں بھی رکھتے تھے۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ خود اپنی کمزوریاں دور کرنے کی صلاحیتیں نہیں ہیں ۔ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں، ہمیشہ سوچتے ہیں اور پھر روز اول، پھر وہیں کے وہیں پاتے ہیں۔ نہ دل بدلتا ہے نہ ماحول بدلتا ہے نہ اپنے خاندان والوں سے سلوک بدلتا ہے، نہ غیروں سے اپنا سلوک بدلتا ہے کسی مصیبت میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اوپر سے وہ جن کی اصلاح ضروری تھی جن کی اصلاح ہم نے کرنی تھی وہ بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ پس ہمارے مسائل بڑھ رہے ہیں، یہ احساس پیدا کرنالازم ہے۔ فرمایا۔ سوا گر تم اپنے آپ کو درندوں کی مانند بیکار اور لا پروا بناؤ گے۔“ جیسے درندوں کو کوئی رحم نہیں ان کی بلا سے ارد گرد دوسرے جانوروں پر ظلم ہو رہے ہیں یا اُن کی نسلیں مٹائی جا رہی ہیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ فرمایا اگر تم درندوں کی مانند بے کار اور لا پرواہ ہو جاؤ گے۔ تو اس لفظ درندوں کا استعمال مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے، یہ میں نے نہیں کہا۔ پس یہ بات جو میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہے کہ یہ بہت ہی خطرناک غلطی ہے کہ ہمیں گرد و پیش کا احساس نہ ہو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں یہ درندوں کی صفت ہے۔ وو اگر تم اپنے آپ کو درندوں کی مانند بیکار اور لا پرواہ بناؤ گے، تو تمہارا بھی ایسا ہی حال ہوگا۔ چاہیئے کہ تم خدا کے عزیزوں میں شامل ہو جاؤ۔“ اور عزیزوں میں شامل ہونے کا جو رستہ پہلے بیان فرمایا جا چکا ہے وہ رستہ اختیار کرنا اور وہ سفر شروع کرنا ضروری ہے۔ دو تا کہ کسی و با کو یا آفت کو تم پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ ہو سکے ۔“ اب وبا کے ساتھ یا آفات کے ساتھ وباؤں کا بھی ذکر ہے۔ اب کسی وبا یا آفت کو تم پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ ہو سکے۔ یہ ایک ایسا مضمون ہے جس کو جماعت کے مخلصین بندوں کے حالات پر غور کرنے