خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 150

خطبات طاہر جلد 17 150 خطبہ جمعہ 6 مارچ 1998ء ڈال دو یا دنیا کے آرام کو ترجیح دو اور اپنے آرام کو ترک کر دو ۔ اب دیکھ لیں بعینہ یہی زندگی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی الہیم کی زندگی تھی۔ ان دو فقروں کو حضرت رسول اللہ صلی علم الکلام کی زندگی پر اطلاق کر کے دیکھیں تو ایک ادنی ذرہ کا بھی فرق آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔ جتنے بھی مراتب بندے کو خدا کی طرف سے نصیب ہوتے ہیں اس میں یہ مرکزی نقطہ ہے کہ جب بندہ اپنے آرام کو حج کر اپنے بھائیوں اور دوسروں کے آرام کا خیال رکھنا شروع کر دے تو خدا اُس کو ضرور اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کے لئے ضروری نہیں کہ یہ سفر نبوت کے بعد شروع ہو۔ تمام انبیاء کا سفر یہی سفر ہے اور سب سے زیادہ واضح اور قطعی طور پر رسول اللہ صلی السلام کی پہلی زندگی اس کو ثابت کر رہی ہے کہ آپ ملا تھا کہ ہم اپنے بھائیوں کے آرام کو اپنے آرام پر ترجیح دیا کرتے تھے اور ابھی نبوت آپ صلی الا السلام پر نازل نہیں ہوئی تھی اور اللہ نے آپ صلی ا کہ تم کو اپنی طرف کھینچ لیا کیونکہ یہ صفت ایسی ہے جو خدا کو بہہ جو خدا کو بہت پیاری ہے اور آگے دنیا کی اصلاح کا سفر اس صفت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ جو اس صفت سے محروم ہے وہ نبوت اور نبوت کی غلامی کی صفات سے محروم ہے۔ پس ضروری ہے کہ آپ ان باتوں کو سمجھیں اور وہ لوگ جو اجْتَرَحُوا السَّيَّاتِ جنہوں نے برائیاں گھڑ رکھی ہیں ان سے الگ وہ بن جائیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایمان رکھنے والے لوگ ہیں اور عَمِلُوا الصَّلِحَتِ نیک اعمال کرنے والے ہیں ان دونوں کے ساتھ ایک معاملہ نہیں ہوگا ، نہ ایک معاملہ ان کے ساتھ ہونا ممکن ہے۔ اب دوسرا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب زمین پر نازل ہو رہا ہے اور اس سے بچنے والے وہی ہیں جو کامل طور پر اپنے سارے گناہوں سے تو بہ کر کے اُس کے حضور میں آتے ہیں ۔ یہ جو دوسرا پہلو تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ بدوں کی زندگی اور ان کی موت نیکوں کی زندگی اور موت جیسی ہو جائے ۔ یہ وہ پہلو ہے جس کی تشریح ہے کہ اگر تم خدا کی پناہ میں آنا چاہتے ہو تو اپنے سارے گناہوں سے تو بہ کر کے اس کے حضور حاضر ہو جاؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو تم وہ لوگ ہو جاؤ گے جن کے اندر خدا تعالیٰ ایسی صفات بھر دے گا کہ دُنیا والوں کے ساتھ تمہارا فرق نمایاں دکھائی دے گا، کسی تفصیلی بحث کی ضرورت نہیں پڑے گی ، وہ فرق ہر دیکھنے والی آنکھ کو نمایاں طور پر دکھائی دینے لگے گا اور ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟، کیسے فرق دکھائی دے گا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک اور جگہ فرماتے ہیں: