خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 145
خطبات طاہر جلد 17 145 خطبہ جمعہ 27 فروری 1998ء فَوْزًا عَظِيمًا (النساء : 74) کی خوشخبری دیتا ہے ورنہ ضرور آپ نے اکھڑنا ہے اور اکھڑ کے بالآخر موت کی طرف آپ کا سفر شروع ہو جائے گا۔ فرمایا : دو تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے۔“ میں نے بہت گہری نظر سے ایسے لوگوں کا مطالعہ کیا ہے۔ سو فیصد درست بات ہے کہ اس قسم کے تمسخر میں مبتلا لوگ پھر اپنی نیکی کی حالت پہ کبھی بھی قائم نہیں رہتے ۔ پہلی جگہ سے اکھڑتے ہوئے دوسری جگہ چلتے چلے جاتے ہیں جہاں موت ان کا انتظار کرتی ہے۔ اس کا علاج کیا ہے؟ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت سے پیش آؤ۔“ )الحکم جلد 2 نمبر 12، 13 صفحہ : 10 مؤرخہ 20و27 مئی 1898ء( اب یہ جو روز مرہ کی عزت ہے یہ دل کی صفائی کے ساتھ ہونی چاہئے۔ بعض دفعہ تمسخر کرنے والے بھی ایک عزت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم عزت سے پیش آ رہے ہیں کسی آدمی کو چھوٹا دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں آؤ بادشا ہو بیٹھو ایتھے ۔ بادشاہو کہہ کر بظاہر عزت کرتے ہیں اور حقیقت میں سخت تذلیل کرتے ہیں۔ کسی غریب آدمی کو ( کہتے ہیں ) سیٹھ صاحب تشریف لائے اور وہ کہتے ہیں ہم نے تو سیٹھ ہی کہا ہے نا لیکن مراد یہ ہے کہ یہ شخص اتنا غریب اور بے کار ہے کہ سیٹھ کا بالکل Opposite ہے۔ پس بظاہر اس کی عزت ہوئی ہے سیٹھ کہہ کر مگر اس سے زیادہ تکلیف دہ خنجر اس کے دل میں نہیں گھونپا جا سکتا۔ اس کو غریب کہہ دیتے تو اس کو اتنی تکلیف نہ ہوتی ۔ اگر غریب کو سیٹھ کہا جائے تو اس کو اپنی غربت یاد آجاتی ہے اور برے رنگ میں یاد آتی ہے، تکلیف پہنچاتی ہے۔ پس چونکہ اب وقت ہو چکا ہے میں اس مضمون کو یہاں ختم کرتا ہوں ۔ یہ مضمون انشاء اللہ جاری رہیں گے اور میری کوشش ہوگی کہ جماعت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تصور کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لے۔ پس آج کی یہ بڑی خوشخبری ہے کہ جماعت سویڈن نے ایک کوشش کی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس تصور کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لے۔ تو یہ دعا ہے کہ اب ہمیشہ اس بات پر مضبوطی سے قائم ہو جائیں اور موت تک کبھی ان نیکیوں کو ہاتھ سے نہ جانے دیں جو نیکیاں اختیار کرنے کا آج وہ عزم کر چکے ہیں اور اس مجلس میں جو وہاں قائم کی جائے گی میری نمائندگی کے زیر صدارت اس میں دوبارہ اس عہد کو ہرایا جائے گا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔