خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 133

خطبات طاہر جلد 17 133 خطبہ جمعہ 27 فروری 1998ء دل پر جو گزرتی ہے وہ ہم جانتے ہیں اور یہ پہچان لیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ قدر شناس ہے جتنا ہم قدر شناس ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ کھوئے ہوئے بندوں کی تکلیف محسوس کرتا ہے جس طرح ہم ایک لق و دق صحرا میں ایک کمی ہوئی اونٹنی کی تکلیف محسوس کرتے ہیں جس کے اوپر ہمارا سرمایہ حیات لدا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ کا تو کوئی سرمایہ حیات نہیں جو اس کے کھوئے ہوئے بندوں پر منحصر ہو۔ اللہ تو غنی ذات ہے۔ سارا عالم بھی اس کو جھٹلا دے، اس کا انکار کر دے اس کو ایک ذرہ کی بھی پرواہ نہیں ہوگی ۔ اس کے باوجود یہ محبت ، یہ اصل پیغام ہے۔ وہ بندہ تو مجبور ہے اس اونٹنی کے انتظار کے لئے جس پر اس کا سارا سرمایہ حیات ہے۔ وہ ذات تو مجبور نہیں ہے جس پر ساری کائنات کا انحصار ہے اس کو کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کہ اس کو چھوڑ کر کہاں چلے جائیں ۔ کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہونی چاہئے۔ پس اس استغنا کے باوجود وہ ہیجان جو اس بندے کے دل میں پیدا ہوا ہے اس ہیجان کا تعلق خدا سے ہو، جیسا کہ آنحضرت صلی السلام نے بیان فرمایا ہے، خالصہ یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے محبت ہے ورنہ محبت کے بغیر اس مسئلہ کی سمجھ آ نہیں سکتی۔ اونٹ والے کا انتظار تو اپنی مجبوری ، اپنی بقا کی خاطر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بقا کا گم شدہ بندوں سے کیا تعلق ہے لیکن ان کی بقا اس کو پیاری ہے جیسے کوئی اپنے محبوب کو گمشدہ پائے اور باوجود اس کے کہ وہ محبوب کی زندگی اس پر انحصار رکھتی ہو وہ اس کے لئے بے چینی محسوس کرے گا۔ پس یہ جو بنیادی ، مرکزی، گہرا پیغام ہے یہ ہے جو بے انتہا عزت اور توقیر کے لائق ہے۔ ہر انسان کو یہ سوچنا چاہئے کہ میرا خدا جو خالق ہے، جو رب ہے، جو ستغنی ہے وہ میرے ضائع ہونے پر بھی ایسا ہی دکھ محسوس کرے گا گویا اس کا انحصار مجھ پر تھا لیکن اگر ایسا شخص پر تھالیکن ایسا واپس نہ آئے تو قرآن کریم کی آیات سے اور رسول اللہ صلی السلام کی تشریحات سے پتا چلتا ہے کہ پھر خدا مستغنی ہے پھر اس کی اس کو کچھ بھی پرواہ نہیں رہے گی، اللہ کوکوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ پس اس پہلو سے جب میں جماعتوں کو نصیحتیں کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ ہمارے کھوئے ہوئے دوست واپس آجائیں تو اس میں جماعت کا کوئی نقصان پیش نظر نہیں ہوا کرتا، کبھی بھی نہیں ہوا۔ مجھے علم ہے کہ اگر ایسے لوگ نصیحت کو نہیں مانیں گے اور واپس نہیں آئیں گے تو صرف اپنا نقصان کریں گے جماعت کا ہر گز کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اس قطعی علم کے ساتھ مجھے کوشش کرنا ہے اور میں کوشش کرتا ہوں اور آپ سب کو اس کوشش میں اپنا مددگار بننے کی بار بار درخواستیں کرتا ہوں ۔ تو یا درکھ لیں