خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 88
خطبات طاہر جلد 16 88 خطبه جمعه 31 جنوری 1997ء 5 ظَلُومًا جَهُولًا (الاحزاب (73) ہو جاؤ یعنی اپنے نفس پر ایسی ظلم کی نگاہ ڈالنی کہ ادنی سے ادنی کمزوری کو بھی نظر انداز نہ کرنا ، کوئی رعایت نہ کرنی۔ اس پہلو سے دنیا کا کوئی نبی بھی ظلوم کہلانے کا مستحق نہیں ٹھہرا سوائے حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے اور اسی لئے سب سے بڑی امانت آپ کو عطا ہوئی ہے۔ جس کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں نے قبول کرنے اور اٹھانے سے انکار کر دیا اس امانت کو محمد رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھ کے اٹھا لیا۔ پس تسبیح کا مضمون حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلى الله عروسه سے سیکھیں۔ صلى الله جب آنحضرت ﷺ سے پورے وعدے ہو گئے ، ہر قسم کی وضاحت ہو گئی کہ تجھے کوئی غم ، کوئی فکر نہیں سب چیزیں تیری بخشی ہوئی ہیں پھر بھی عبادت کرتے رہے راتوں کو اٹھ کر، پاؤں سوج صلى الله جاتے تھے عبادت کرتے ہوئے ۔ پوچھنے والے نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! اب آپ کیا کرتے ہیں۔ فرمایا میں عبد شکور نہ بنوں؟ اتنا بڑا احسان ۔ (صحیح البخاري كتاب الرقاق باب الصبر عن محارم الله قوله عز وجل) سا ساری کائنات میں میں ہی تو ہوں جو اس عظیم احسان کا مظہر بنایا گیا ہوں تو کیا میں بیٹھ رہوں گا اس کے بعد ۔ میری زندگی کا سفر اب شکر کے مضمون میں داخل ہوا ہے اور یہ لا متناہی سفر ہے، کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ تو تسبیح سے تحمید اور تحمید سے شکر کے مضمون میں داخل ہوں تو آپ کی ساری زندگی بن جائے گی اور ایک زندگی کیا آپ دوسری سینکڑوں زندگیاں بنانے کے اہل ہو جائیں گے جو آپ کے بعد آنے والی ہیں۔ بعد میں آنے والی نہیں اپنے ماحول ، اپنے گرد و پیش میں یہ صفات اپنی ذات میں جاری کریں اس قسم کا وجود بنے کی کوشش کریں تو آپ کا گھر سدھرنا شروع ہو جائے گا ، آپ کا ماحول سدھرنا شروع ہو جائے گا۔ آپ کے محلے، آپ کی گلیاں ، آپ کے شہر سدھر نے شروع ہو جائیں گے۔ پس اس رمضان سے یہ فائدہ حاصل کریں کہ واقعہ آپ دنیا کے مذکر اور مز کی بن کر نکلیں اور یہ اسی طرح ہوگا کہ اپنے نفس کا محاسبہ کریں اور احتساب کے ذریعے اس رمضان کے ختم ہونے سے پہلے اپنے پہلے گناہوں سے کلیہ پاک ہو جائیں اور خدا تعالیٰ کی بخشش کے انعام حاصل کرنے کے بعد نئی بخششوں کا سفر شروع ہوگا یعنی کلیہ پاک ہو ہی نہیں سکتے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مگر ہر رمضان آپ کو پہلے سے بہتر حالت میں دیکھے۔