خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 901
خطبات طاہر جلد 16 901 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1997ء تو وہ چال ہلکی بھی ہوتی ہے اور سواروں کو اس کا تجربہ ہے اس پو یہ چالی پہ پڑ جائے تو وہ سارا دن بھی چلتا رہے اس کو تھکاوٹ نہیں ہوگی اور چال نرم ہوتی ہے ۔ تو اس پو یہ لفظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت سی نصیحتیں ہمارے لئے رکھ دی ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے یہ جو فرمایا تھا کہ نیکیوں کے حصول میں نرمی کرو اور ایک دم اتنی محنت نہ کرو کہ تمہارے بدن ٹوٹ جائیں ، تمہاری ہمتیں جواب دے جائیں۔ کچھ تھوڑ اسا صبح چلو، کچھ دو پہر کو آرام کر لو، کچھ شام کو چلو ۔ آخر یہ سفر کامیابی پر منتج ہوگا ۔ پس پو یہ قدم ، اس لئے ضروری لفظ پو یہ ہے کہ یہ زندگی بھر کا معاملہ ہے اور نماز اہمیت کے لحاظ سے جتنی بھی اہم ہوا سے افراتفری میں حاصل نہیں کیا جا سکتا یعنی تیز دوڑ کر، بے لگام دوڑ کر آپ اگر کوشش کریں کہ ایک دم نماز کے اعلیٰ مقصد کو حاصل کر لیں ، اس پر پنجہ مار لیں تو نامرادی ہو گی اور اس سے دل اور بھی ٹوٹے گا، ہمت اور بھی جواب دے جائے گی اس لئے جماعت کے وہ سب دوست جو اس دور میں داخل ہوئے ہیں ان کو میں اس لفظ پو یہ کی طرف متوجہ کر کے نصیحت کر رہا ہوں کہ بے قراری اور بے چینی تو رکھیں دل میں لیکن ایسا اظہار نہ کریں کہ ہفتہ ہو گیا ، دس دن گزر گئے ، مہینہ ہو گیا ہمیں وہ مل ہی نہیں رہا ابھی تک ، جو ملنا چاہئے ۔ یہ بے چینی اگر آپ دکھائیں گے تو آپ کو ثبات قدم نصیب نہیں ہو سکتا ۔ ثبات قدم پو یہ چال سے ہی ہوسکتا۔ - نصیب ہوگا یعنی صبح بھی کوشش کریں، دو پہر کو بھی ، رات کو بھی اور یقین رکھیں کہ اس چلنے سے منزل قریب آرہی ہے اور کسی وقت بھی آپ منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ پس اگر اس میں صبر اور استقامت دکھائیں گے اور نرمی اختیار کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے عظیم الشان فوائد آپ دیکھیں گے اور اس کا کچھ طریق یہ ہے کہ نماز کے معاملات پر تھوڑا تھوڑا غور ہر نماز میں ضرور کریں۔ میں نے بچوں کی کلاس میں اب نماز کے سبق جاری کئے ہیں اس کے متعلق بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے غیروں کی طرف سے ، بعض غیر احمدیوں کی طرف سے بھی بہت ہی اعلیٰ تاثرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو اردو کلاس سے ایک نعمت مل گئی ہے اور نماز کے متعلق چونکہ بچوں کو سمجھانے میں مجھے محنت کر کے چھوٹی چھوٹی باتیں کرنی پڑتی ہیں جو دلنشین ہو جائیں اور جنہیں چھوٹی عمر کا یعنی موٹا بچہ بھی سمجھ جائے اور بڑا بچہ یعنی غانا کے ہمارے دوست آڈو صاحب بھی سمجھ سکیں اس لئے اس محنت کے دوران اکثر سمجھ جاتے ہیں اور اللہ کے فضل سے بعض