خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 887
خطبات طاہر جلد 16 887 خطبہ جمعہ 15 دسمبر 1997ء ان میں سے ایک بات جواب سامنے ابھری ہے وہ یہ ہے کہ جو صد رصا ا یہ ہے کہ جو صدر صاحب پہلے گزرے ہیں وہ خود ایک نامنصف صدر تھے اور جماعت اسلامی سے ان کے گہرے مراسم تھے جو شروع سے چل رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قاضی صاحب ( مراد جماعت اسلامی کے لیڈ رقاضی حسین احمد - مرتب ) بے وجہ اچھلتے رہے ہیں یعنی پلے میں کچھ ووٹ ہی نہیں تھے ، ملک کی حمایت حاصل نہیں تھی لیکن شیخیاں ایسی بگھار رہے تھے کہ گویا سارے ملک پر قبضہ کرنے والے ہیں اور اس آئینی بحران سے پہلے ان کے بیانات سے یوں لگ رہا تھا جیسے آئندہ دو سال کے لئے ملک پر صدر کے طور پر ٹھونس دئے جائیں گے یا وزیر اعلیٰ کے طور پر ٹھونس دئے ۔ پر ٹھونس دئے جائیں گے۔ چنانچہ کراچی میں جو جلسہ ہوا ، دوسری جگہ جو انہوں نے بیانات دئے ان سب بیانات میں بچگانہ شوخی پائی جاتی تھی جس کا عقل سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ۔ ایک ایسا جسے قوم بار بار رد کر چکی ہو، بڑے بڑے دعاوی کے باوجود، ٹیلی ویژن کے انتظامات کرنے کے باوجود قوم نے پہلے سے بھی بدتر سلوک کیا ہو اور محض ایک شیخی بگھار نے والے مولوی سے زیادہ اس کو وقعت نہ دی ہو ان کے یہ بڑے اصرار کے ساتھ دعاوی اور اس بحران کے دوران کراچی میں جا کر جلسہ عام میں یہ اعلان کرنا کہ بعید نہیں کہ یہ ملک اب دو سال کے لئے ہمارے سپرد کر دیا جائے ۔ دوسال کی مدت کا تصور کیوں آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پانچ یا دس سال بھی تو ہو سکتا تھا۔ یہ کوئی اندر کھاتے جس کو کہا جاتا ہے ان کا کوئی معاہدہ صدر مملکت سے تھا اور وہ شروع سے ہی جماعت اسلامی کی حمایت کر رہے ہیں اس لئے بعید نہیں تھا کہ وہ اسمبلی کو محروم کر دیتے یعنی Dissolve کر دیتے اور پھر ان کو یہ بہانہ ہاتھ آجاتا کہ وقتی طور پر عبوری طور پر دو سال کے لئے ملک جماعت اسلامی کے سپر د کر رہا ہوں اور پھر ان کا خیال یہ تھا کہ جماعت اسلامی جو پر پرزے نکالتی تو اس کے نتیجے میں ہمیشگی کے لئے ان کو ملک پر مسلط کر دیا جاتا لیکن بعید نہیں تھا کہ پر کاٹ دئے جاتے جو جماعت اسلامی نکالتی اور ان کے مسلط ہونے کا سوال ہی کوئی نہیں تھا۔ اگر صدر صاحب یہ کوشش کرتے تو صرف اس صورت میں ممکن تھا کہ فوج ان کی حمایت کرتی اور ان کے ذہن میں یہ بات رچی بسی تھی کہ فوج میری حمایت میں ہے۔ اس بناء پر واقعہ جماعت اسلامی کو مسلط کیا جا سکتا تھا اگر فوج کی پوری پشت پناہی حاصل ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا ہے جسے ہم بظاہر ایک اپنے لئے مکروہ فعل دیکھ رہے ہیں کہ وہ انقلاب ابھی نہیں آیا کیونکہ اگر وہ انقلاب ابھی آجاتا اور موجودہ ٹولے کو فوقیت مل جاتی تو یہ اسی