خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 874
خطبات طاہر جلد 16 اقتباس کو پڑھتا ہوں ۔ فرماتے ہیں: 874 خطبہ جمعہ 28 نومبر 1997ء جو حالت میری توجہ کو جذب کرتی ہے اور جسے دیکھ کر میں دعا کے لئے اپنے اندر تحریک پاتا ہوں وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی شخص کی نسبت معلوم کرلوں کہ یہ خدمت دین کا سزاوار ہے اور اس کا وجود خدا تعالیٰ کے لئے، خدا کے رسول کے لئے ، خدا کی کتاب کے لئے اور خدا کے بندوں کے لئے نافع ہے۔ ایسے شخص کو جو در دوالم پہنچے وہ در حقیقت مجھے پہنچتا ہے ۔“ 66 پس یہ امر واقعہ ہے کہ بار ہا دعاؤں میں میں نے جب بھی دل کو ٹٹول کر دیکھا تو وہ لوگ جو خدمت دین میں پیش پیش تھے انہوں نے ہمیشہ میرے دل پہ ہجوم کیا ہے ۔ وہ لوگ جو خدمت دین میں پیش پیش رہتے ہیں وہ سب سے زیادہ میری دعاؤں کے مستحق بنتے ہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کی طرف میں نے توجہ سے غور اس تحریر کو پڑھنے کے بعد کیا۔ یہ تحریر پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ میں اپنی حالت پر بھی تو غور کر کے دیکھوں۔ پس تہجد کی نماز میں یا دوسری دعاؤں میں جب بھی غیر معمولی دل میں تحریک پیدا ہوئی تو اس عبارت نے مجھے سمجھایا کہ اس لئے ہے کہ یہ لوگ دین میں آگے آگے ہیں۔ یہ خدمت دین کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ یہ خدمت خلق میں بھی مصروف رہنے والے ہیں ۔ پس الحمد للہ کہ اس پہلو سے میں نے بلاتر ڈو اپنے دل کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل کے مشابہ پایا اگر چہ مرتبے میں بہت کم تھا۔ فرماتے ہیں: ”ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دلوں میں خدمت دین کی نیت باندھ لیں۔ جس طرز اور جس رنگ کی خدمت جس سے بن پڑے کرے۔ (یہ فرمانے کے بعد آپ فرماتے ہیں) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کی قدر و منزلت ہے جو دین کا خادم اور نافع الناس ہے ورنہ وہ کچھ پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کتوں اور بھیڑوں کی موت مر جائیں۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ: 216،215) جلداول پس الحمد للہ کہ جماعت احمد یہ میں بکثرت ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جن کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کھینچ رہی ہے اور حیرت ہوتی ہے ان کی تعداد کود یکھ کر وہ لاکھوں تک پہنچ چکے ہیں۔ کسی زمانے میں سینکڑوں تھے اور دنیا کی کوئی جماعت ایسی نہیں رہی جہاں اس قسم کے خدمت