خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 81
خطبات طاہر جلد 16 81 خطبه جمعه 31 جنوری 1997ء تجلی کرتا ہوں اگر یہ پہاڑ باقی رہ گیا تو پھر تو مجھے دیکھ سکے گا اور جب تجلی ہوئی تو حضرت موسی بے ہوش ہو کے جاپڑے اور بجلی کی حال ے اور تجلی کی حالت بھی نہیں دیکھ سکے ۔ ایسا جلوہ تھا کہ سوائے غش کے حضرت موسیٰ کے حصے کچھ بھی نہیں آیا۔ فَلَمَّا أَفَاقَ (الاعراف: 144) جب افاقہ ہوا، ہوش آئی تو کہا سبحنك تُبْتُ إِلَيْكَ تو پاک ہے اللہ ! میں تیری طرف تو بہ کرتے ہوئے آتا ہوں۔ وہ میری غلطی تھی جو میں نے یہ مطالبہ کیا و انا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ میں دیکھ تو نہیں سکا مگر ایمان لانے والوں میں میں اول ہوں اب۔ میں نے ایسا جلوہ دیکھا ہے کہ اس کے بعد تیری تسبیح کے وہ مرتبے مجھ پر روشن ہوئے، وہ مقامات مجھ پر روشن ہوئے کہ اس پہلو سے میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں اور اول المومنین کا مطلب یہ نہیں کہ زمانے میں پہلا بلکہ انہوں نے کہا کہ میں اس مقام میں پہنچ چکا ہوں ، اس مقام تک پہنچ گیا ہوں کہ اپنے دور میں مجھے پہلا مومن شمار ہونا چاہئے۔ یعنی اول المومنین میں یہ دعوئی ہے اور واقعہ اپنے دور میں اور اپنی شریعت میں آپ اول المومنین ہی تھے۔ یہ مراد نہیں کہ حضرت ابراہیم اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے بالا آپ کو ایک مقام عطا کیا گیا جس کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں۔ یہ ساری باتیں تسبیح کے ذکر میں میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں ۔ بہت کثرت سے تسبیح کے حوالے قرآن کریم میں موجود ہیں مگر میں نے چند چنے ہیں۔ اب میں آپ کو دوبارہ نماز کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ دیکھیں نماز میں داخل ہونے اور سورۃ الحمد تک پہنچنے سے پہلے، پہلا دروازہ اور گیٹ ہے جس کے کھلے بغیر آپ حمد تک جا ہی نہیں سکتے وہ سُبحَنَكَ اللهم کا ہے اور پھر فرمایا وَ بِحَمْدِكَ اے اللہ تو پاک ہے، ہر عیب سے پاک ہے۔ وَ بِحَمْدِكَ اور ہر عیب کے مقابل پر جو مثبت صفت ہے جو حمد کہلا سکتی ہے وہ تیرے اندر لازماً شامل ہے۔ یعنی تیری تسبیح اور تیری حمد کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں تسبیح کا مضمون سمجھیں تو حمد کا مضمون از خود روشن ہوتا چلا جائے گا۔ صلى الله پس اس رمضان مبارک میں سبحان کے مضمون کو سمجھیں اور آنحضرت علی نے جو سب عليه ۔ سے عظیم خدا تعالیٰ کا ذکر بیان فرمایا ہے جس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دو کلمے جو ہلکے پھلکے ہیں زبان پر ، بہت وزنی ہیں اللہ کے نزدیک ۔ ان میں بھی یہی باتیں جوڑ کر بیان فرمائی گئی ہیں۔ سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم اب یہ دو کلمے ہیں چھوٹے چھوٹے سے مگران میں حیرت انگیز گہرائی کے ساتھ تمام عارفانہ مضامین جو خدا کے تعلق میں ذہن میں آنے چاہئیں وہ