خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 860
خطبات طاہر جلد 16 860 خطبہ جمعہ 21 نومبر 1997ء دیکھا ، بڑی گہری نظر سے ان کا مطالعہ کیا ہو وہی ہے جو تمام بنی نوع انسان کی کیفیات کو بھی سمجھ لیتا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے چونکہ اس زمانے کا مربی اور معلم بنانا تھا اس لئے آپ ان باتوں میں انسانی نفسیات کی کمزوریوں میں جس گہرائی سے اترے ہیں ویسا گزشتہ چودہ سوسال کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی اور اترتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اگر کچھ صلى الله بزرگ ایسے ہوں گے تو صحابہ جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتے تھے ان حالتوں کو جانتے ہوں تو ان کو ویسے ہی مجال نہیں تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہوئے تعلیم کا کام خود اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ اس لئے جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ادب اور احترام کے تقاضے کے تابع اسی کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا لیکن جو بعد میں علماء پیدا ہوئے ان کو یہ خیال آیا کہ بہت سی باتیں عامۃ الناس نہیں سمجھتے اور ہمیں سمجھانی چاہئیں۔ سو حوالے قرآن اور حدیث ہی کے دیتے تھے مگر سمجھانے کی کوشش کرتے تھے۔ پہلے زمانے میں ابتدائی حالت میں کیوں بزرگوں نے نہیں سمجھایا۔ کچھ تو یہ کہ ان کی اپنی عرفان کی حالت ایسی تھی کہ بہت سے مسائل نظر ہی نہیں آرہے تھے۔ وہ اپنے روحانی تجربے سے جانتے تھے کہ یہ باتیں تو ٹھیک ہیں سب کو پتا ہوں گی گویا کہ ۔ حالانکہ سب کو پتا نہیں ہوتی تھیں اور دوسرا یہ کہ اس وقت جبکہ سورج سر پر چڑھا ہو اس وقت لوگوں کو رستہ دکھانا احترام کے خلاف سمجھتے تھے لیکن جب رسول اللہ ﷺ سے ہٹ کر کہیں دور سفر کر رہے ہوں وہاں ہمیں ایسے واقعات دکھائی دیتے ہیں کہ الله آنحضرت ﷺ کے بعض ارشادات پر بعض صحابہ روشنی ڈال، ڈال رہے ہیں اور یہ اور بعض ) ں دوسرے ان معنوں سمجھ سے اختلاف بھی کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے ہیں جہاں اکثر احکامات پر زمانے کی گرد و غبار پڑ چکی تھی جبکہ اس زمانے کے دیکھنے والوں کو کچھ ہے نہیں آرہی تھی کہ ان احکامات کی روح کیا ہے، کیوں دئے جا رہے ہیں ، ان کے درمیان رابطے کیا ہیں اور اس کے علاوہ ایک یہ مشکل بھی در پیش تھی کہ مختلف علماء نے ان نصیحتوں کو جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائیں بالکل غلط سمجھ کر تکبر سے اس بات پر اصرار کیا کہ ہم ٹھیک سمجھ رہے ہیں اور یہی معنے ہیں۔ اگر یہ معنی جاری رہتے تو سارا زمانہ ہلاکت میں مبتلا ہو جاتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے وقت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مامور فرمایا اور آپ فرماتے ہیں کہ میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا۔ یہ زمانہ میرا تقاضا کرتا تھا اور پھر ایسے تجارب کی توفیق عطا فرمائی جن تجارب میں سے آپ بچپن سے گزر