خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 853 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 853

خطبات طاہر جلد 16 853 خطبہ جمعہ 21 نومبر 1997ء جن میں بڑے بڑے بعض پاکستان حکومت کے سربراہ بھی شامل رہے ہیں وہ ان فقیروں کے دروازے تک پہنچتے ہیں اور وہ نہایت گندی گالیوں میں مصروف ہوتے ہیں اور وہ گویا یہ خدا تعالیٰ کا ایک احسان سمجھتے ہیں کہ وہ ان کو گندی گالی دے دے تا کہ ان کو تمام مقاصد نصیب ہو جائیں ۔ یہ سب جہالتیں ہیں۔ ان جہالتوں کا کوئی دور کا بھی رسول اللہ ﷺ کے غلاموں سے تعلق نہیں ، کجا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے خود یہ تعلیم دی ہو۔ آپ کی حالت نماز یہ تھی کہ ہر سانس میں آپ کی توجہ خدا کی طرف تھی اور خدا کی طلب کرتے تھے۔ پس یہ کہنا ایک ایسے شخص کا کہنا ہے، یہ قول ایک ایسے شخص کا قول ہے جس نے زندگی میں گہرے تجربے سے یہ بات معلوم کی ہے کہ الصلوة هي الدعاء اور الصلوة من العبادة _ پس حضرت رسول اللہ ﷺ کی اس حالت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ سمجھا اور پھر اس کی یہ تشریح فرمائی کہ: ” جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوٰۃ نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور ادب، انکسار، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوٰۃ میں ہوتا ہے۔ اصل حقیقت دعا کی وہ ہے جس کے ذریعے سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔ یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کو نا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔ اب یہ بھی ایک روزمرہ کی پہچان ہے۔ ہم میں سے ہر ایک لازما اپنے روزمرہ کے مشاغل میں غیر معقول باتوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔ کبھی مذاق ہے، کبھی اور ہلکی پھلکی باتیں ہیں جو اپنی ذات میں گناہ نہ بھی ہوں تو اس عرصے کے لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ نماز میں نہیں ہے اور یہ حالت اگر آپ غور کریں تو جتنا ابتدائی سالک ہوگا اتنا ہی اس میں زیادہ پائی جائے گی ۔ جتنا آگے بڑھے گا یہ عادت اس کی کم ہوتی چلی جائے گی اور اس کے روز مرہ کے اکثر لحات خدا کے لئے ہوتے چلے جائیں گے۔ جب یہ ہو تو پھر نماز بنے لگتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس کا عکس نماز پر بھی پڑتا ہے اور اسی حد تک نماز خدا کے