خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 804 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 804

خطبات طاہر جلد 16 804 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء ہے، دیا کیا ہے آگے سے، کچھ بھی نہیں۔ الله صلى الله ۔ تو یہ جو حدیث ہے رسول اللہ ﷺ کی یہ بول رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کلام ہے۔ اسی الله لئے میں آپ کو سمجھایا کرتا ہوں کہ روایات پر اتنا انحصار نہ کیا کریں محمد رسول اللہ ﷺ کا کلام خود بولتا ہے، بلا شبہ پہچانا جاتا ہے کہ یہ حمد مصطفی ﷺ کا کلام ہے۔ فرمایا اپنی یخی! یعنی وہ سخی جس کو قرآن کریم نے سخی بیان فرمایا ہے اللہ کے قریب ہوتا ہے، لوگوں کے قریب ہوتا ہے اور جنت کے قریب ہوتا ہے۔اب جو سنی بھی اللہ کے قریب نہ ہو وہ سنی نہیں ہے۔ یہ تعریف منفی صورت میں اس طرح پوری ہوتی ہے۔ جو سخی بیک وقت اللہ کے قریب نہ ہو اور جنت کے قریب نہ ہو اور لوگوں کے قریب نہ ہو وہ بھی نہیں ہے۔ یہ تینوں لازمی شرطیں ہیں کسی کے خدا کی نظر میں سخی ہونے کے لئے کیونکہ جو خدا کی محبت میں لوگوں پر اس طرح خرچ کرتا ہے کہ ایک ذرہ بھی ان کا شکریہ برداشت نہیں کرتا ، چھپ کے دیتا ہے۔ ظاہر کبھی دے تو اس انداز میں دیتا ہے کہ ان کی عزت افزائی کرتا ہے۔ ان سے کہتا ہے کہ آپ قبول کر لیں تو ہم پر احسان ہے یخنی ہے جو بندوں کے قریب ہوا کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی سخی بندوں کے قریب نہیں ہو سکتا۔ تو دیکھیں خدا تعالیٰ نے ہم پر کتنا احسان فرمایا کہ اس کے کلام کی تشریح محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمائی اور ایسی پر حکمت ، اتنی گہری تشریح ہے کہ ذہن کے آخری کنارے تک سیراب کرتی چلی جارہی ہے۔ فرمایا اس کے برعکس ، بخیل اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا ہے، لوگوں سے بھی دور ہوتا ہے اور جنت صلى الله سے بھی دور ہوتا ہے۔ ( رسالہ قشیریہ باب الجود و السخاء صفحہ: 122) اس تعریف کے بعد اب کون چاہے گا کہ اس کا خرچ آنحضرت ﷺ کی اس تعریف کے مطابق اسے اللہ کے قریب ، لوگوں کے قریب اور جنت کے قریب کرنے والا نہ ہو۔ لازماً ہر ایک اپنے خرچ پر نظر رکھے گا اور یہی چاہے گا کہ اس کا بہترین اجر حاصل کرے۔ فرمایا ان پڑھ سنی بخیل عابد سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے ان پڑھ سخی یعنی ان معنوں میں سخی ایک بخیل عابد سے خدا کو زیادہ قریب ہے۔ بظاہر عبادت انسانی زندگی کا مقصد ہے، انسان کو عبادت کی خاطر پیدا فرمایا گیا لیکن اس میں عبادت کی تعریف بھی داخل ہو گئی۔ 66 فرمایا ” ان پڑھ سخی بخیل عابد سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے بہت ہی پر لطف بات ہے ان پڑھ سنی ان پڑھ کیوں کہا حالانکہ اس کے مقابل پر بخیل عابد رکھا ہوا ہے۔ یہ دونوں باتیں اگر صلى الله عليه بہت گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ ان کا بر عکس آنحضرت پر صادر