خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 799
خطبات طاہر جلد 16 799 خطبہ جمعہ 31 اکتوبر 1997ء حرص اور اپنا پس اپنے مال کا سب سے بہترین مصرف یہ ہے کہ اسے بظاہر بے مصرف خرچ کریں۔ بظاہر ان معنوں میں کہ دنیا تو آپ کو پاگل سمجھے گی کہ خدا کو دے رہے ہو نہ لینے کی توقع ، نہ زیادہ لینے کی اپنا بہترین اس کی راہ میں خرچ کرتے چلے ۔ چ کرتے چلے جا رہے ہو۔ دنیا آپ کو اس مصرف میں پاگل سمجھے گی اور پاگل سمجھتی ہے۔ ہمیشہ ایسے لوگوں کو پاگل ہونے کے طعنے دئے جاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے حضور جب اپنی قربانیوں کو پیش کرتے ہیں تو پھر ان اموال کو بڑھانے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو اجتماعی صورت میں بھی رونما ہوتا ہے اور انفرادی صورت میں بھی رونما ہوتا ہے۔ اب اس کا تذکرہ کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک چیز کا تذکرہ کرتا ہے جو ار کسی ذریعے سے انسان کو حاصل نہیں ہو سکتی ، مغفرت کا تذکرہ ۔ مغفرت ایک ایسی لالچ ہے جو رکھی جاسکتی ہے۔ مغفرت کی توقع رکھنا نا مناسب اور ناجائز نہیں۔ تو خدا تعالیٰ نے ہمت دلانے کی خاطر کہ اپنا مال خرچ کر کم سے کم کسی چیز کی خاطر خرچ کرو۔ اس کے بغیر انسان کو بہت اعلی تقوی کے مقام پر قائم ہونا پڑتا ہے۔ اگر تقویٰ کے بہت اونچے مقام پر قائم نہ ہو تو جو باتیں میں آپ کے سامنے عرض کر رہا ہوں کہ بالکل بے وجہ، بے ضرورت، تحفہ کے طور پر قربانی کے رنگ میں خدا کی خاطر خرچ کرو، اس کی توفیق بہت کم لوگوں کو ملتی ہے۔ ہمیشہ جب وہ اپنے روپے سے علیحدہ ہوتے ہیں یا اپنے آرام سے علیحدہ ہوتے ہیں، اپنی مرغوب چیزوں سے علیحدہ ہوتے ہیں تو طبیعی بات ہے کہ جو تقویٰ کے نسبتاً ادنی مقام پر فائز ہیں وہ کچھ نہ کچھ اجر تو فوری طور پر چاہتے ہیں اور اگر کہیں نہیں تو یہ جھوٹ ہوتا ہے اپنے نفس کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی وجہ بیان فرمادی جس نے اس راہ کو سب کے لئے آسان فرمادیا ۔ فرمایا مغفرت کی توقع بھی ضرور رکھنا ۔ تمہارا خدا کی راہ میں خرچ کرنا تمہارے لئے مغفرت کا موجب بنے گا اور مغفرت ترقی کا پہلا قدم ہے۔ مگر مغفرت عطا ہو جائے تو دنیا میں جتنے بھی آپ نے گناہ کئے ، کوتا ہیاں کیں ، غفلتیں سرزد ہوئیں ان سب کے اوپر خدا کی مغفرت کی چادر پڑ جائے گی ، اسے ڈھانپ لے گی ۔ پس یہ اتنا عظیم اجر ہے جو قرضہ حسنہ کو قرضہ حسنہ بھی رکھتا ہے اور سودا بھی بنا دیتا ہے۔ مغفرت کا اجر بھی نصیب ہو گیا اور مغفرت کی خواہش کے ساتھ قرض دینا یہ قرضہ حسنہ کو کسی رنگ میں میلا نہیں کرتا ، اس کو قرضہ حسنہ کی تعریف سے باہر نہیں نکالتا۔ قرضہ حسنہ پیش کریں اور مغفرت کی توقع رکھیں ۔