خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 769
خطبات طاہر جلد 16 769 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء ان میں سے ہر ایک اپنی ذات میں ایک بے مثل قیمتی موتی کی طرح ہے جس کے علم کے ساتھ ہی آپ کی لازماً توجہ اس کی طرف ہو جائے گی۔ اگر آپ کے پاس مختلف کنکر پتھر پڑے ہوں اور آپ کو پتا نہ ہو کہ ان میں سے موتی کون سا ہے تو آپ پتھر کنکروں پر وہی نظر ڈالیں گے جو پتھر کنکروں پر ڈالی جاتی ہے اور ہرگز آپ کو کوئی دلچسپی اس میں نہیں ہو سکتی۔ ان پتھر کنکروں سے نظر ہٹ کر اپنی جیب کے چند پیسوں کی طرف جاسکتی ہے جو چند پیسے ہیں مگر جن کو آپ پتھر کنکر دیکھ رہے ہیں ان سے بہر حال بہتر ہیں لیکن اگر ان میں اچانک وہ موتی دکھائی دینے لگیں جو اپنی چمک دمک میں بے مثل ہوں تو جیب میں خواہ سونے کی ڈلیاں بھی پڑی ہوں تب بھی آپ اس قیمتی موتی کی طرف دوڑیں گے اور اسی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کریں گے، اسے اپنانے کی کوشش کریں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بھی اپنی تشریحات میں ایسے قیمتی معارف کو جواہر کے طور پر پیش کیا ہے، موتیوں کے طور پر پیش کیا ہے۔ چمکتے ہوئے موتی ہیں جو اپنی طرف توجہ کو بھینچ رہے ہیں۔ پس اس پہلو سے جیسا کہ میں نے عرض کیا اگر آپ نماز کے الفاظ پر غور کرنا شروع کریں تو غور کے بعد وہ الفاظ جو سر سری الفاظ تھے جیسے کنکر پتھر ہوں ان الفاظ کی ہیئت بدلنے لگے گی ۔ ان پر غور کے نتیجے میں آپ کو حیرت انگیز معارف نصیب ہوں گے اور وہ معارف ان کی اہمیت آپ کے دل میں بڑھائیں گے، یہاں تک کہ جب ان معارف کو ذہن نشین کر کے آپ پھر وہ الفاظ دہرایا کریں گے تو اس کے مقابل پر دوسرے خیالات آپ کی توجہ پھیرنے کی اہلیت چھوڑ دیں گے، ان میں طاقت ہی نہیں ہوگی کہ ان معارف کے مقابل پر آپ کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکیں۔ یہ وہ علم کے حصول کا مرحلہ ہے جس کی طرف جماعت کو خصوصیت سے توجہ دینی چاہئے اور اس توجہ میں نماز سے متعلق جتنی بھی احادیث نبوی ہیں ان پر غور و خوض شروع کریں اور سرسری نظر سے ان کو نہ پڑھا کریں بلکہ غور سے دیکھا کریں کہ کیا مراد ہے۔ مثلاً آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دو نمازوں کے دوران بھی میرا دل نماز صلى الله ہی میں اٹکا رہتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نماز سے اتنا لطف آیا کہ دو نمازوں کے درمیان اسی لطف میں دل محور ہا اور اگلی نماز نے پھر آپ کو بڑے زور سے کھینچا۔ یہ ایسی کیفیت ہے جیسے آپ کو دو کھانے نصیب ہوں یعنی دو پہر کا اور رات کا اور دونوں بہت ہی مزے کے ہوں۔ پہلا کھانا کھا کر اگر یقین ہو کہ ویسا ہی لطف دوبارہ آنا ہے تو ایک رنگ میں توجہ دوسرے کھانے کی طرف بھی مبذول رہتی ہے اور