خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 709 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 709

خطبات طاہر جلد 16 709 خطبہ جمعہ 26 ستمبر 1997ء جاتی ہے۔ اس سے باہر کی طرف یعنی اس کے پر لی طرف جانے کے لئے لطف الرحمن صاحب نے جو ہمارے سارے سفر کا انتظام کر رہے ہیں انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کوئی جہاز مل جائے جسے ہم چارٹر کر کے شمالی حصے کی طرف جا سکیں لیکن سب کوششوں کے ناکام ہونے کے بعد بعض ایسے جہازوں کا انتظام انہوں نے کر لیا جن میں زیادہ مسافر نہیں بٹھائے جاسکتے تھے۔ دس پندرہ مسافر بٹھائے جا سکتے تھے مگر اس کے لئے بھی اتنے لمبے فاصلے کے لئے ان کو Spare یعنی زائد پٹرول کا انتظام کرنا پڑتا تھا۔ اگر وہ پٹرول کے ٹینک ساتھ اٹھا لیں تو پھر مسافروں کی تعداد پانچ دس رہ جائے گی اور ہمارے قافلے کے لئے اس قسم کے انتظامات کے ذریعے نارتھ پول کی طرف جانا ممکن نہیں تھا۔ یہ محض ایک لغو کوشش ہوتی اور خطر ناک بھی کیونکہ ایسا جہاز جس نے اپنا پٹرول اٹھایا ہوتا کہ رستے میں بھرے اور شمالی جو تیز ہوائیں ہیں ان کے لئے بھی اس کا پوری طرح دفاع کا انتظام نہ ہو، بعض دفعہ شمالی جھکڑ اتنا تیز چلتے ہیں کہ چھوٹے جہازوں کی حیثیت نہیں رہتی کہ وہ ان جھگڑوں کا مقابلہ کرسکیں، اس لئے میں نے یہی فیصلہ کیا کہ اس پروگرام کو ختم سمجھا جائے ۔ جہاں تک الاسکا کا تعلق ہے یہاں آنا بے کار نہیں رہا۔ میں جماعت کو پوری طرح مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ یہ سفر بہت معلوماتی رہا ہے۔ ہمارے ہاں عموماً الاسکا کا جو تصور ہے وہ بالکل مختلف ہے یا کم سے کم مجھے تو الاسکا کے متعلق وہ معلومات حاصل نہیں تھیں جو یہاں آنے کے بعد حاصل ہوئیں۔ جہاں تک لطف الرحمن صاحب کا تعلق ہے انہوں نے بھی یہ معلومات اس اشتہاری لٹریچر سے حاصل کی تھیں جو حیرت انگیز طور پر الا سکا کو بڑا اور عظیم دکھاتا ہے اور دور دور سے مسافروں کو کھینچتا ہے۔ یہ کاروبار وہ ہے جس میں امریکن اشتہار باز دنیا کی چوٹی پر ہیں ، خواہ الاسکا کا شمالی حصہ دنیا کی چوٹی پر ہو یا دنیا یا نہ ہو مگر ان کی اشتہار بازی دنیا کی چوٹی پر ہے۔ جو نقشہ کھینچے گئے تھے وہ بالکل مختلف نکلے۔ حیرت انگیز طور پر ایک اور دنیا ہم نے دیکھی ہے۔ الاسکا کا شمالی حصہ جہاں ہم پہنچے جہاں ایک لاکھ کی آبادی کا ایک بہت بڑا شہر آباد ہے وہاں اتنی گرمی تھی کہ سیر کے دوران ہمیں کوٹ اور سویٹرا تار دینے پڑے اور کمروں کے اندر بھی کولر ، ایئر کنڈیشنر چل رہے تھے۔ باہر کی دنیا سوچ بھی نہیں سکتی کہ الاسکا کے سب سے شمالی شہر میں اس قدر گرمی پڑتی ہوگی اور انتہائی شمال میں بھی اگرچہ سردیوں میں ساٹھ درجے Minus تک ٹمپر پچر پہنچ ،