خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 695
خطبات طاہر جلد 16 695 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء اس مضمون کو دہرانا لازم ہے۔ آپ سب کو میں مخاطب کر کے یہ باتیں سمجھا رہا ہوں۔ روحانی انقلاب پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ بندے کے اندر ایک روحانی انقلاب چاہتا ہے۔ جو شخص یہ فیصلہ کرے وہ سب سے پہلے اپنے اندر ایک روحانی انقلاب پیدا کر کے دکھائے ۔ اگر ایسا نہیں کرے گا تو جن لوگوں کو خدا کے رستے کی طرف بلائے گا عملاً وہ رستہ خدا کا رستہ نہیں ہوگا وہ ان کی ذات کا رستہ ہوگا جو خدا سے دوری کا ایک رستہ ہے۔ یہ تفصیل میں پہلے کھول کر مثالوں سے ثابت کر چکا ہوں ۔ آج میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس کو غور سے سنیں اور جان لیں کہ انسان کے اندر خدا کے رستے کی طرف بلانے اور خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے جو طاقتیں ہیں وہ آسمانی فضل کے ساتھ وابستہ ہیں اور جب تک خدا کی تقدیر آپ کے اندر کوئی پاک تبدیلی نہ دیکھے وہ غیر معمولی طاقتیں آپ کو نصیب نہیں ہو سکتیں جو دنیا کی کایا پلٹ دیا کرتی ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کی زبردست طاقتوں میں سے ایک یہ طاقت ہے کہ اس کی پیروی کرنے والے کو معجزات اور خوارق دیئے جاتے ہیں۔ معجزے سے مراد یہ ہے کہ اس کی خاطر اللہ تعالیٰ کئی ایسے نمونے دکھاتا ہے جو عام دنیا کی ما تدبیر کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوا کرتے۔ سب سے بڑھ کر معجزے یا معجزوں کا فیض پانے والا انسان خود جانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایسی غیر معمولی باتیں بظاہر اتفاقاً پیدا میں غیر ہوگئیں جنہوں نے مل کر اس کے کام کو ایسی غیر معمولی طاقت بخشی کہ وہ اپنی تکمیل کو پہنچ جائے ۔ ایسی مثالیں بے شمار ہیں۔ میں اپنی زندگی کے تجربے سے اور اپنے ماحول میں احمدیوں کی زندگی کے تجربے سے اور اکثر ان کے خطوط سے یہ جانتا ہوں کہ سب سے بڑا معجزے کا قائل وہ شخص ہوتا ہے جو خود معجزہ دیکھتا ہے، اس کے گرد و پیش معجزہ بن رہا ہوتا ہے اور وہ کامل یقین سے جانتا ہے کہ یہ اتفاقات کا نتیجہ نہیں ، یہ تقدیر الہی ہے جو کام کر رہی ہے۔ اس ضمن میں ایک لفظ ہے جس کو خوارق کہتے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خوارق کا لفظ بڑی گہرائی اور حکمت سے استعمال فرمایا ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں روزمرہ کے قوانین میں انسان سے کچھ نیکیوں کی توقع ہوتی ہے اگر اس کی نیکیاں روزمرہ کے قوانین سے بڑھ جائیں اور