خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 679 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 679

خطبات طاہر جلد 16 679 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء یہ فکر پہلے یہ یہ نکلیں نکلیں : تو پھر میں بات کروں لیکن جو رویا میں نے دیکھی اس اس ۔ سے مجھے معلوم ہوا ہوا کہ کہ میں میری یہ نا جائز ہے کیونکہ یہ رویا ایک ایسی عجیب رویا ہے جس کی جب تک تشریح نہ کروں آپ کو سمجھ نہیں آئے گی اور مجھے بھی رؤیا کے دوران حیرت تو تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے لیکن اٹھنے کے بعد اس کی سمجھ آئی۔ میں نے رویا میں یہ دیکھا کہ میں ایک بہت ہی بلند عمارت کی چھت پر کھڑا ہوں ، اتنی بلند عمارت ہے کہ وہ آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور وہ مسجد کی عمارت ہے اور مسجد سے مراد جماعت ہوا کرتی ہے۔ تو پہلی بات تو یہ خدا تعالیٰ نے سمجھائی کہ جماعت کی بلندی کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا اور یہ جماعت وسیع تر اور بلندتر ہوگی اور بہت ہی وسیع مسجد ہے۔ اوپر سے میں نیچے انسانوں کو چھوٹے چھوٹے وجودوں کے طور پر، کیٹڑیوں کی طرح تو نہیں مگر بالکل چھوٹے چھوٹے منحنی وجودوں کے طور پر دیکھ رہا ہوں جو میرا انتظار کر رہے ہیں اور میں اس بلند مسجد کی چھت سے نیچے دیکھتا ہوں تو گہرائی سے تھوڑا سا خوف آتا ہے کہ جو چیز گرے اس کا کیا حال ہوگا اور وہاں جو لوگ کھڑے ہیں ان میں کچھ قادیان کے نمائندے ہیں اور کچھ سپین کے۔ ان دونوں جگہوں سے جماعت کو نکالا گیا ہے اور ان دونوں جگہوں میں واپسی کی خوشخبری میں سمجھتا ہوں اس خواب میں دی گئی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ خواب ہی میں مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ گویا یہ ایک Miniature ہے ساری تاریخ کا اور آنکھ کھلنے کے بعد مضبوطی سے اس خیال نے میرے دل پر قبضہ کر لیا کہ یہ نظارہ مجھے اس طرح دکھایا گیا ہے جیسے رحم مادر میں بچہ اپنی ایک Billion Years کی تاریخ کو دہراتا ہے لیکن اپنی تکمیل تک ایک Billion Year نہیں لیا کرتا بلکہ نو مہینے میں وہ مکمل ہو جاتا ہے۔ تو جو کچھ مجھے یہاں دکھا یا جا رہا ہے یہ گویا ایک پرانی تاریخ عجیب کنگ کنگ کا خلاصہ کر کے جو جماعت کے سامنے پیش آنے والے حالات ہیں ان کو اس طرح دکھایا جا رہا ہے۔ ت ہے میں اپنی جیب میں کبھی لکھی نہیں رکھا کرتا ، نہ کنگھی کا زیادہ استعمال کرتا ہوں، وقت میں بھی نہیں ملتانہ اتنے بال ہیں کہ ان کو کنگھی سے سنوارا جائے لیکن میری جیب سے ایک خوبصورت کی کنگھی نکلی ہے اور میں اوپر سے نیچے اکٹھے ہونے والو کو کہتا ہوں یہ میری نشانی ہے اور میں یہ گھی نیچے پھینک رہا ہوں ۔ وہ لہراتی ہوئی کچھ عرصہ لیتی ہے، بلکہ کافی وقت لیتی ہے اور آخر وہ زمین تک مقصد نیچے اتر جاتی ہے۔ اب کنگھی کو اس موقع پر نشانی بنانا ایک عجیب و غریب بات ہے۔ مگر کنگھی کا ہوتا ہے صفائی کرنا، گند کو باہر نکالنا اور بالوں کو صاف اور مزین کرنا۔ تو یہ معلوم ہوا کہ اس واپسی کے