خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 670
خطبات طاہر جلد 16 670 خطبہ جمعہ 5 استمبر 1997ء سے جماعت احمدیہ اور ساتھ ہی وزیر نے یہ اعلان کیا کہ ہمارے نمائندے خصوصاً جو امیر اس وقت مقرر ہیں جب سے وہ آئے ہیں اور انہوں نے شرارت شروع کی ہے اور انہوں نے گیمبین کو گیمبین لڑانے کی کوشش شروع کی ہے اور انہوں نے احمدیت کو ملک کو پھاڑنے میں استعمال کیا ہے۔ یہ سازش اس لئے تھی کہ جب وہ کار روائی کریں جبکہ قوم میں کچھ بات ہو ہی نہیں رہی تو فرضی طور پر قوم کے سامنے یہ پیش کریں کہ انہوں نے کوئی شرارت کر کے کیمبین کو پھاڑ دیا قتل و غارت کے خطرے ہو گئے اب ہم مجبور ہیں کہ عوامی مطالبہ منظور کر لیں کہ ان کو باہر نکالو۔ تو پیشتر اس کے کہ وہ اس شرارت کرنے میں کامیاب ہوتے میں نے اپنے تمام غیر سیمبین خدمت گاروں کو یہ کہا کہ فوراً بستر بوری اٹھاؤ اور اس ملک کو چھوڑ دو کیونکہ اب یہ اس بد بخت حکومت اور گیمبیا کے شرفاء کے درمیان ایک جنگ شروع ہو گئی ہے اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر ان کو نکالا یہ بھی حیرت انگیز بات ہے۔ لطف الرحمن صاحب جو ملک عطاء الرحمن صاحب کے صاحبزادے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی ان کا بعض افریقن ممالک میں رسوخ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بہت سی دولت بھی عطا فرمائی ہے ان کا یہ خیال تھا کہ رفتہ رفتہ کر کے نکلیں چند آج نکل گئے چند کل نکل گئے اور ستمبر میں دیر تک یہ معاملہ پھیلا دیا جائے۔ میں نے ان سے کہا کہ اس طرح نہیں میں نے نکلوانا ۔ نکلو اور جرات سے نکلو، ایک وقت میں نکلو اور نکلنے سے پہلے ایک انٹرویو دو اور بتاؤ کہ ہم کیوں نکل رہے ہیں ۔اس کے لئے مشکل تھی کہ جو عام جہاز ہے وہ کہتے تھے ہمارے پاس تو ایک دوسیٹیں بھی مشکل سے ملیں گی اکٹھے جانے کا کوئی انتظام نہیں ہو سکتا۔ لطف الرحمن صاحب نے ایک جہاز چارٹرڈ کیا اور چارٹرڈ جہاز کی خاطر انہوں نے اور بھی کوششیں کیں کہ ہمیں آئیوری کوسٹ کا ویزہ مل جائے مگر اس میں دقتیں تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے آئیوری کوسٹ کے ایمبیسیڈرکی خود راہنمائی فرمائی ، اس کے دل میں جماعت کی محبت ڈال دی اس نے ہمارے سارے جتنے بھی قافلے کے آدمی تھے یعنی غیر یمین خدمت کرنے والے ان کو دو دو مہینے کا آئیوری کوسٹ کا ویزہ دے دیا اور یہ کارروائی حکومت سے مخفی رکھی۔ دن دہاڑے جہاز اترا ہے اور وہ جہاز گنی کوناکری کا جہاز تھا۔ اس سے پہلے مختلف ٹولیوں میں احمدی ایئر پورٹ پر گئے ہیں اور سارے داخل ہو گئے ان کا سامان بھی چلا گیا اور حکومت کچھ نہیں کر سکی۔ کسی غیر حکومت کی مدد لینے کی ضرورت نہیں پڑی۔ صرف ایک دعا تھی اور ایک ایسی خواب تھی جو اس کے بعد مجھے آئی جس