خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 668 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 668

خطبات طاہر جلد 16 668 خطبہ جمعہ 5 استمبر 1997ء گر جس کی مجھے اطلاع ملی تو میں نے کہا اب اللہ کا معاملہ اور ان کا معاملہ آپڑا ہے اب دنیا دیکھے گی کہ یہ کیسے کیسے ذلیل کئے جاتے ہیں۔ اس نے اب یہ بھی دیکھیں کہ خطبے میں مباہلہ کا سنانا یہ اپنے پاکستانی اور عرب آقاؤں کی خاطر تھا کیونکہ گیمینز کو عربی نہیں آتی اگر گیمپیئنز کو دکھانا ہوتا اس نے تو ظاہر بات ہے کہ یا اپنی کیمبین زبان میں تقریر کرتا یا انگریزی میں جو عام بولی جاتی ہے لیکن خطبہ اس نے مباہلے کے اقرار کا عربی میں دیا ہے اور چونکہ اب ہم اس کو پھیلا رہے ہیں سارے گیمبیا میں ہم بتا رہے ہیں کہ اس نے کیا خطبہ دیا تھا اس لئے اب وہ جو معاملہ اگر کشتی ہے تو ON ہو گئی ہے۔ ایک طرف یہ بد بخت ہے اور ایک طرف خدا کے فرشتے ہیں جماعت احمدیہ نے اپنا دامن اس میں سے نکال لیا ہے۔ اس نے خطبے میں ہمارے ڈاکٹر پاشا صاحب کو مخاطب کیا ہے۔ ڈاکٹر پاشا حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کے نواسے ہیں اور بڑے باغیرت انسان ہیں ماشاء اللہ، بہت ہی انہوں نے اس جدو جہد میں اعلیٰ کردار کا نمونہ دکھایا ہے اور ان کے سپر دہی کیا گیا تھا کہ وہ اس کو مباہلہ دیں۔ پہلی دفعہ جب مباہلہ دیا گیا تو اس کے رشتے داروں نے اس کے غالباً نانا نے یا دوسروں نے منتیں کیں کہ خدا کے لئے اس کو معاف کر دیں اسے مباہلے کا نشانہ نہ بنائیں اور پہلی بار خوف اور سراسیمگی کے آثار تھے یہ ہاتھ جھٹک جھٹک کے کہہ رہا تھا کہ چھوڑو اس مباہلے کو لیکن اس کے رشتے داروں نے اور پھر ایک ایسے مولوی نے جو وہاں کی مذہبی کونسل کا ممبر ہے اور کافی بڑی جماعت کا سر براہ ہے اس نے بھی جماعت سے کہا کہ دیکھیں میں بھی ہرگز مباہلہ قبول نہیں کرتا میرا نام بھی نہ لیں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ جماعت سچی ہے اس لئے اب میری مجبوریاں ایک طرف رکھیں مگر ہرگز مجھے مباہلے میں شامل نہ کریں اس کو دینا ہے تو اس کو بے شک دیں چنانچہ اس نے انکار کیا۔ اب جو اقرار کر رہا ہے وہ یہ کرتا ہے کئی دفعہ کوششیں ہوئیں۔ ایک موقع پر اس نے بھی ٹالا اور مذہبی امور کے وزیر نے مباہلے کو اٹھا کے پھینک دیا۔ یہ کیا کاغذ ہے یہ میرا کیا کر سکتا ہے؟ اور اس کو بار بار پیغام پہنچائے گئے کہ مباہلہ بے شک کر لو جو ضیاء اور کنگ فیصل اور بھٹو سے ہوئی تھی یہ احمد یوں نے کروایا تھا اس لئے وہ بات جو سعودی عرب نہیں کہتا ، جو پاکستان نہیں کہہ رہا وہ اس کو پاگل بنانے کے لئے بتائی گئی کہ یہ تو سارا قتل احمدیوں نے کروایا تھا تمہیں کیا ڈر ہے مباہلے کا۔ کرلو اور اعلان کر دینا کہ میری موت ہوئی تو میں شہید ہوں گا۔ چنانچہ یہی اس نے اعلان کیا۔ کہتے ہیں ”ڈاکٹر پاشا! جہاں