خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 664
خطبات طاہر جلد 16 664 خطبہ جمعہ 5 رستمبر 1997ء سب سازشیں پنپتی ہیں۔ چنانچہ اس 23 مارچ کے دورے میں یہ تینوں شامل تھے پاکستان سے شروع ہوئے وہاں کچھ دیر ٹھہرے وہاں سازش نے کئی قسم کے رنگ اختیار کئے ہوں گے ہمیں علم نہیں گے ان میٹنگز میں کیا باتیں ہوئیں لیکن کو بیت آئے ہیں پھر مصر آئے ہیں پھر اپنے ملک واپس پہنچے ہیں اور 16 جون سے کئی مہینے پہلے کی یہ بات ہے لیکن سوال یہ تھا کہ یہ تمبر میں ہی ہوئی تھی یا اس سے پہلے تھی چنانچہ ہم نے جب تحقیق کی تو پتا لگا کہ اس سال جنوری میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے رمضان کے مہینے میں سعودی عرب میں یہ سازش اپنی تکمیل کو پہنچ چکی تھی اور وہاں ایک ایسا خوفناک ڈرامہ کھیلا گیا جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی صریح گستاخی اور بد تمیزی پر مشتمل تھا اور ایسی گستاخی ہے کہ کوئی شخص بھی جو ، کوئی حکومت بھی اگر غیرت رکھتی ہو اور اپنے خیال میں رسول اللہ ﷺ کی ہتک پر پھانسی کی سزا دینا چاہے تو ان سعودیوں کو سزادی جانی چاہئے تھی جنہوں نے ایک ڈرامہ رچایا ہے اس ڈرامے کا حال یہ ہے، سینیے۔ صلى الله عليه جدہ ایئر پورٹ پر جنوری میں ان کے صدر عمرہ کرنے کے لئے گئے ۔ سعودی وزیر شاہ مدانی نے ان کا استقبال کیا اور ریڈ کارپٹ بچھائے گئے جو بہت عظیم بڑی بڑی غیر ملکی شخصیتوں کے لئے بچھائے جاتے ہیں۔ جمعہ ان کو خانہ کعبہ میں پڑھایا گیا وہاں سے جو ان کے ساتھ شروع سے اس سازش میں ملوث ہیں۔ وہ جو موجودہ امام ہیں اس کے ساتھ پڑھنے والے ایک ڈاکٹر صالح الحمیدی ہیں جو ا کٹھے سعودی عرب میں کافی دیر تک تعلیم پاتے رہے ہیں اور یہ امام اس وقت سے تیار ہو رہا ہے جیسا کہ میں نے کہا تھا نا کہ جب فوجی سازش ہوئی ہے اس سے پہلے کے قطعی ثبوت مل گئے ہیں کہ یہ پانچ سال وہاں پڑھتا رہا اور امام ڈاکٹر صالح الحمیدی کے ساتھ اس کے بہت تعلقات ہوئے وہ طالب علم تھا یا نہیں مجھے اب پکا پتا نہیں لیکن اس وقت سے ان کی آپس کی دوستی ہے۔ یہ وہی امام ہیں سٹیٹ ہاؤس کا جب آغاز ہوا ہے 1996 ء میں جب اس نے قبضہ کیا تو پھر سٹیٹ ہاؤس ایک بنایا گیا اس میں ایک مسجد کی تعمیر ہوئی اس وقت اس کا افتتاح کرنے والا یہی امام تھا اس امام نے انتخاب کے نتائج پر صدر کو مبارکباد دی اور ٹیلی ویژن گیمبیا کا ایک نمائندہ ساتھ ساتھ اس ساری کارروائی کی تصویر کھینچ رہا تھا اور گیمبیا پر یہ تاثر پیدا کرنا تھا کہ یہ سعودی عرب کی کارروائی انٹر نیشنل ہو رہی ہے سب دنیا کو دکھائی جا رہی ہے اور گیمبیا کے صدر کی اتنی عزت افزائی ہو رہی ہے وہ جس ٹیلی ویژن کے