خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 660
خطبات طاہر جلد 16 660 خطبہ جمعہ 5 استمبر 1997ء نکالے متاثر نہیں بلکہ وہ کھلم کھلا اپنی حکومت کے ان چہروں سے پردے اٹھا رہے ہیں جو گندے اور خبیث چہرے ہیں۔ یہ خلاصہ ہے جو میں نے بیان کر دیا اس کے ثبوت ان اخبارات کے حوالوں سے بعد میں کسی وقت میں پیش کروں گا۔ اب میں واپس آتا ہوں اس سازش کی نقاب کشائی کی طرف۔ اس ملک کے صدر اس وقت یحییٰ جامع صاحب ہیں اور صدر یحییٰ جامع صاحب اور وزیر تعلیم کا اپنا تاثر جوان واقعات سے پہلے کا جماعت کے متعلق ہے وہ ایک مسلمہ تاثر جو شائع ہو چکا اخبارات، ریڈیو میں اس کا ذکر آگیا وہ ہمارے داؤد صاحب جو امیر تھے ان کے گیمبیا چھوڑنے کے اوپر ان دونوں نے جو اپنے تاثرات بیان کئے وہ یہ ہیں۔ صدر صاحب گیمبیا جو موجودہ صدر ہیں انہوں نے کہا ” جہاں تک اس ملک میں جماعت احمدیہ کا تعلق ہے انہوں نے بڑے عظیم کام کئے ہیں جو حکومت گیمبیا نہیں کر سکتی تھی۔ یہاں حقیقت بول پڑی ہے اور ابھی اس سازش نے پر پرزے نہیں تھے تو صدر کو اور وزیر تعلیم کو حقائق کا اعتراف کرنا پڑا اور یہی حقائق کا اعتراف ہے جو ان کو اب ملزم قرار دے رہا ہے مجرم قرار دے رہا ہے ملزم تو ہیں ہی مجرم بھی قرار دے رہا ہے۔ جہاں تک اس ملک میں جماعت احمدیہ کا تعلق ہے انہوں نے بڑے عظیم کام کئے ہیں جو حکومت گیمبیا نہیں کر سکتی تھی۔ حکومت سکول تعمیر نہیں کر سکتی تھی یہ غربت کا عالم تھا لیکن جماعت احمدیہ نے کئے ۔ حکومت ہسپتال نہیں بنا سکتی تھی اور واقعہ جو ہسپتال ہم نے تعمیر کر کے دئے ہیں جس طرح لوگوں کا اس طرف رجحان ہے اس کا عشر عشیر بھی ان کے ہسپتال کام نہیں کر سکتے ۔ دکھا نہیں سکتے جو حکومتوں کے پیسوں سے بنائے گئے ہیں۔ ”حکومت ہسپتال نہیں بنا سکتی تھی آپ نے بنا دیئے۔ آپ نے گیمبیا کے لوگوں کو مذہبی اور اخلاقی تعلیم دی۔ یہ اب یاد رکھیں کہ اس کے بعد کی بکواس کا رنگ کیا ہے اور اس کا کیا ہے۔ اسی طرح صحت کی سہولیات بھی گیمبیا کو مہیا کیں جو حکومت گیمبیا نہیں کر سکتی تھی۔ اہل گیمبیا آپ کے جانے سے غمگین ہوں گئے۔ یہ بھی سچی بات ہے اہل گیمبیا بہت عمگین ہیں اور بہت غصے کا اظہار کر رہے ہیں اپنی حکومت کے خلاف اس لئے آپ لوگوں کو گیمبیا کے رہنے والے معزز لوگوں کے خلاف ایک ذرہ بھر بھی کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہونی چاہئے سارا گیمبیا ایک زبان ہوکر جماعت کی تائید میں اٹھ کھڑا ہوا ہے اور یہ شرارت ہے یہ بالا بالا محض پاکستان کی نقالی اور ان کی حکومت اور ان کے بعض کا رندوں کی شرارت کے نتیجے میں عربوں سے پیسہ کھانے کا یعنی ذاتی پیسہ کھانے کا ایک ذریعہ