خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 613 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 613

خطبات طاہر جلد 16 613 خطبہ جمعہ 15 اگست 1997 ء نصیب ہو سکے کیونکہ صدیقیت کے ساتھ نبوت کے بعد سب سے مشکل صفات ہیں اور نبوت کا پرتو ہی صدیقیت ہے۔ غیر نبی جب نبی کی طرح ہو جائے تو اسے صدیق کہا جاتا ہے۔ اللہ ایسے لوگوں ہی سے نبی چلتا ہے جو صد یقیت کی صفات پہلے رکھتے ہیں۔ پس میں یہ نہیں کہتا کہ آپ میں سے ہر آدمی صدیق بن سکتا ہے مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ آپ میں سے ہر آدمی صدیق بنے کی کوشش ضرور کرے، اسے اپنا مطمح نظر بنائے اور اس مضمون پر غور کرے اور ہماری : مون پر غور کرے اور ہماری جماعت کو ہر جگہ تربیت میں اس مضمون کو بالا رکھنا چاہئے اور پیش نظر یہ رکھنا چاہئے کہ جو بھی ہم تبدیلیاں دنیا میں لائیں ان سب تبدیلیوں کے ساتھ ہی اپنی اندرونی تبدیلیوں کی طرف بھی متوجہ ہو جائیں اور نئے آنے والوں کو صد یقیت کی دعوت دیں، نئے آنے والوں کو شہادت کی دعوت دیں۔ صد یقیت کے بعد شہادت کا مضمون جسے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے اسے غور سے سن لیں۔ فرماتے ہیں: اور شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جائے“۔ اب آپ کو ہر قسم کے دکھ دنیا کے مختلف مقامات پر دیئے جاتے ہیں پاکستان میں بھی دئے گئے یہاں بھی دشمن آپ کے پیچھے پڑا ہوا ہے دوسرے ملکوں میں بھی دشمن چاہتا ہے کہ آپ کے ساتھ وہی سلوک ہو جو پاکستان کے بدوں نے پاکستان کے صالحین اور صدیقوں اور شہیدوں سے کیا ہے تو آپ یہ سن لیں کہ اس وقت صبر دکھانا ایک عام صبر نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرما رہے ہیں ”خارق عادت ہو۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عام عادات سے ہٹ کر ہو۔ ایسا صبر جو رفتہ رفتہ ہر انسان کو نصیب ہو جاتا ہے وہ خارق عادت نہیں ہوا کرتا۔ جب کسی کا پیارا مرتا ہے وہ صبر ہے جو خارق عادت کا صبر ہے۔ مرنے کے چند سال کے بعد اسے صبر آنا ہی آنا ہے ۔ انسان کے بس میں ہی نہیں ہے کہ ہر غم کو سینے سے ہمیشہ کے لئے لپٹائے رکھے۔ بالآخر انہی گھروں میں جہاں رونا اور پیٹنا ہوا نہی گھروں میں ہنسیاں شروع ہو جاتی ہیں انہی گھروں سے قہقہوں کی آوازیں آتی ہیں ان کی زندگیاں بدلنے لگتی ہیں اور ہر غم وقت کے لحاظ