خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 609 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 609

خطبات طاہر جلد 16 609 خطبہ جمعہ 15 اگست 1997ء کہ کسی زید یا بکر کا میرے دل میں تصور ہو خدا تعالیٰ سے ایک آسمانی شہادت چاہتا ہوں جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔ یہ مباہلے کے علاوہ ایک مضمون ہے۔ مباہلے کی باتیں اس سال کے آغاز میں میں کر چکا ہوں آپ کو تفصیل سے سمجھا چکا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اس اشتہار سے پہلے، اس صدی کے اختتام سے پہلے مباہلے کا اعلان کر چکے تھے اس میں ایک مقابلہ ہے، اس میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر یہ تیری قسمیں ، تیری عزت اور جلال کی قسمیں کھا کر جھوٹ بولیں تو پھر تو ان سے ہمارا بدلہ اتار لیکن یہ اس سے بالا مقام ہے۔ آپ فرماتے ہیں یہاں میں کسی زید بکر کسی دشمن کا کوئی تصور نہیں رکھتا۔ میں اپنے رب سے یہ عرض کر رہا ہوں کہ میں مغلوب ہو گیا ہوں انہوں نے میری کوئی بات میں مانی۔ جو سچائی کا فیصلہ کرنے کی راہیں تھیں وہ سب یہ ترک کر بیٹھے ہیں ایسے مقام پر آگئے ہیں فیصلے زمین میں نہیں بلکہ آسمان پر کئے جاتے ہیں۔ پس اے میرے رب میں تجھ سے ایک نشان چاہتا ہوں ۔ کوئی ایسا نشان ظاہر فرما جس کے نتیجے میں میری صداقت روشن ہو جائے اور وہ نشان امن کا نشان ہو۔ یہ بہت ہی عظیم دعا ہے جو اس صدی کے آخر پر آپ کو خاص طور پر اپنے پیش نظر رکھنی چاہئے۔ جہاں تک جاری مباہلے کا تعلق ہے وہ اپنا کام ایک سال کے اندر ضرور دکھائے گا اور دکھا رہا ہے اس کو میں کا لعدم نہیں کر رہا۔ یاد رکھیں مباہلے کی دعائیں اپنے طور پر جاری رہیں گی مگر مباہلے کے بعد جیسا کہ ہمیں نظر آرہا ہے ضدی لوگ پھر بھی ضد کریں گے اور ان کی ضد توڑنے کے لئے آسمان سے ہم نے ایک امن کا نشان مانگنا ہے اس کے لئے اس سارے صبر اور عفو اور درگزر کی ضرورت ہے جس کا حوالہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام شروع میں دے چکے ہیں۔ ایک آسمانی شہادت چاہتا ہوں جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔۔۔۔۔ اور میں جانتا ہوں کہ اگر میں اس کی نظر میں صادق نہیں ہوں تو اس تین برس کے عرصہ تک جو 1902 ء تک ختم ہو نگے میری تائید میں ایک ادنی قسم کا نشہ نشان بھی ظاہر نہیں ہوگا اور اس طرح پر میرا کذب ظاہر ہو جائے گا اور لوگ میرے ہاتھ سے مخلصی پائیں گے اور اگر اس مدت تک میرا صدق ظاہر ہو جائے جیسا کہ مجھے یقین ہے تو بہت سے پردے جو دلوں پر پڑے ہیں اٹھ جائیں گے۔