خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 604
خطبات طاہر جلد 16 604 خطبہ جمعہ 15 اگست 1997ء لئے آیا ہوں ، تخت پر بیٹھنے کے لئے آیا ہوں کیونکہ دشمن جو اس تخت کے معنی صحیح سمجھتا نہیں تھا اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام آپ کے دشمنوں نے طرح طرح کے مذاق اڑائے اور وہ تخت جو آسمانی تخت تھا اس کو زمینی تخت سمجھ کر آپ کا تمسخر اڑاتے رہے اور طرح طرح کی اذیتیں دیتے رہے اس میں اب کیا مراد یہ نہ تھی کہ: " اپنے بادشاہ ہونے کی پیشگوئی کی تھی جو پوری نہ ہوئی اور کیونکر ممکن ہے کہ صادق کی پیشگوئی جھوٹی نکلے؟“۔ یہودی یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ مسیح نے کہا تھا کہ ابھی بعض لوگ زندہ موجود ہوں گے کہ میں واپس آؤں گا مگر یہ پیشگوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی۔ اب ان پیشگوئیوں کی جو لطیف تشریحات، ایسی جو عقل اور دل کو مطمئن کرنے والی ہوں جماعت احمد یہ کرتی ہے وہ ان مولویوں کے بس کی بات نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو جہاد کا ایک کارخانہ دے دیا ہے ان باتوں میں ۔ بہت عظیم اسلحہ ہے جو شکست کے نام سے نا آشنا ہے۔ اس اسلحہ کو اس کا میابی کے ساتھ استعمال کریں جس کا میابی کے ساتھ ایک مومن کا شیوہ ہے لیکن یہ تمام کارخانه سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو قائم فرمایا ہے اس کی بقاء کے لئے تمام اہم ترین باتیں آپ کے سامنے کھول کر رکھ دی ہیں۔ صلى الله ایسا ہی ہمارے نبی ﷺ کے بعض امور پر جاہلوں کے اعتراض ہیں جیسا کہ حدیبیہ کے واقعہ پر بعض نادان مرتد ہو گئے تھے اور کیا اب تک پادریوں صلى الله اور آریوں کی قلموں سے وہ تمام جھوٹے الزام ہمارے سید و مولی کی نسبت شائع نہیں ہوتے جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں۔ صلى الله حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے باقی نبیوں کے حوالے سے بعض باتیں درج فرمادیں لیکن حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی جو گہری عزت اور محبت آپ کے دل میں گاڑی گئی تھی آپ نے ان الزمات کی تفصیل بیان کرنے سے گریز فرمایا ہے لیکن ایک راز کی بات سمجھادی ہے۔ فرمایا، آنحضرت انحضرت ﷺ پر جتنے اعتراضات ہوئے ہیں وہ تمام تر میری ذات پر بھی ہوئے ہیں پس جتنے صلى الله بیہودہ اور گندے اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر کئے گئے ہیں وہ رسول اللہ ﷺ