خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 580 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 580

خطبات طاہر جلد 16 580 خطبه جمعه یکم را گست 1997ء کرنے سے بے شمار فائدہ پہنچا ہے۔ وسعتیں بڑھائی جائیں جب اس وسعت پر انسان خوش ہو جائے اور ہنسی خوشی کرنے لگے پھر تھوڑا سا اور قدم بڑھائے پھر تھوڑا سا اور قدم بڑھائے اس سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہماری وسعتیں پھیل کر ہماری ضروریات کے مطابق ہو جائیں گی۔ تیس لاکھ انسان خدا ہمیں نہ دیتا اگر خدا کے نزدیک ہماری یہ وسعت نہ ہوتی پھر اس بات کا مجھے کامل یقین ہے مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہماری وسعت کیا تقاضے کرتی ہے اس میں وسعت کے اندر رہتے ہوئے تھوڑی تھوڑی وسعتیں اور بڑھانے کی ضرورت پڑی رہتی ہے۔ ایک انسان کی وسعت پیدائشی طور پر بہت ہو سکتی ہے مگر بچے کو سکھانا تو پڑتا ہے جب وہ سیکھتا ہے تو پھر معلوم ہو جاتا ہے کہ میری وسعت کیا تھی ۔ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو فضل ہم پر نازل ہوئے ہیں ہماری وسعت کے مطابق ہیں یہ نا ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ یہ نعمتیں ہمیں عطا فرماتا اگر اس کے نزدیک ہماری وسعت کے اندر ان کو سنبھالنا نہ ہوتا۔ اپنی وسعتوں کے اس حصے کو بڑھا دیں جو ابھی تک آپ سے کھوئے ہوئے ہیں۔ آپ میں سے ہر ایک عبادت کے اس مضمون پر چل کر جو میں نے بیان کیا ہے اپنی وسعتوں کو بہت بڑھا سکتا ہے۔ اگر جماعت احمد یہ ساری مُخْلِصًا لَهُ دِینی بنے یعنی بننے کی کوشش شروع کر دے تو اتنی عظیم وسعتیں عطا ہوں گی کہ ان کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ ایک سال میں تمیں لاکھ کیا کروڑ بھی ہو جائیں گے تو آپ کی وسعت کے اندر رہیں گے۔ پس آئندہ کی ترقیات اگر خدا سے مانگنی ہیں تو جو عطا ہوئی ہیں ان کا شکر ادا کریں۔ ان کے شکر کا حق ادا کریں ان کو سنبھالنے کا حق ادا کریں اور اس حق کو ادا کرنے کے لئے اپنا حق ادا کر نا سب سے بڑی ذمہ داری ہے یہاں سے کام چلیں گے اپنا حق ادا کریں اپنے اہل و عیال کا حق ادا کریں پھر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آنے والے جتنے بھی ہوں لاکھوں ہو کروڑوں ہوں انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی وسعت کے دائرے میں رہیں گے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے لئے دعا کرنی لازم ہے اس لئے میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا فضل ما نگتے رہیں اپنے لئے بھی، اپنی اولاد کے لئے بھی اور باقی سب کے لئے بھی خدا ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین