خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 560 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 560

خطبات طاہر جلد 16 560 خطبہ جمعہ 25 جولائی 1997ء والے ہیں، جو اپنے تقوی میں نئے حسن کے رنگ بھرتے چلے جاتے ہیں، جن کا تقویٰ ایک مقام پر ٹھہر نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ خوبصورت اور خوبصورت ہوتا چلا جاتا ہے۔ پس اس الہام پر میں سمجھتا ہوں سب سے پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ کا یہ مخاطب کرنا کہ آسمان اور زمین اس طرح تیرے ساتھ ہیں جس طرح میرے ساتھ اور پھر فرمانا الذين اتقوا و الذين هم محسنون اللہ ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور اپنے تقویٰ میں نئے حسن بھرتے چلے جاتے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تقویٰ پر قائم بھی تھے اور آپ کا تقویٰ خوبصورت سے مزید خوبصورت ہوتا چلا جا رہا تھا اور اس میں حسن کے نئے رنگ بھرے جارہے تھے۔ اگر یہ بات ہو تو یہاتی نصر اللہ اللہ کی نصرت ضرور آیا کرتی ہے۔ میں جماعت کو گزشتہ نصف سال سے بڑھ کر یہ سمجھاتا چلا آرہا ہوں کہ خدا یقیناً ہمارے ساتھ ہے، ہمارے ساتھ رہے گا، اس کی نصرت ہمیں ضرور عطا ہوگی اور اس کی نصرت کے حصول کے لئے لازم ہے ہم اپنے اندر کچھ پاک تبدیلی کر کے دکھا ئیں اور وہ تقویٰ ہی ہے اور حسن تقویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت کو کھینچا کرتا ہے اور نصرت ضرور آئے گی مگر ہمیں اپنے اندر لا زما پاک تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ ایسی پاک تبدیلیاں جو خدا تعالیٰ کی توجہ کا مرکز بنیں اور اللہ تعالیٰ حسن کی نگاہ سے اور سنجیدگی کی نگاہ سے آپ کی پاک تبدیلیوں کو دیکھ رہا ہو۔ اگر یہ ہو تو ناممکن ہے کہ جماعت کی فتح کی تقدیر کو دنیا کی کوئی طاقت بدل سکے یہ ناممکن ہے اور جو میں دیکھ رہا ہوں اس سے مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ میں تقویٰ اور حسن تقویٰ کا معیار پہلے سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ کثرت کے ساتھ ایسے لوگ موجود ہیں جو یہاں بھی موجود ہوں گے جو پیدائشی احمدی تھے مگر ان کی توجہ تقویٰ کی طرف اور حسن تقویٰ کی طرف یعنی تقویٰ کو مزید حسین بنانے کی طرف اس طرح نہیں تھی جس طرح کہ گزشتہ چند مہینوں میں یا ایک دوسالوں میں ہوئی ہے۔ واقعہ کثرت سے مجھے ایسے خطوط ملتے ہیں جہاں احمدی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم پیدائشی احمدی تھے، ہم سمجھتے تھے کہ ہم احمدی ہیں مگر آپ کے خطبات نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک نئے وجود کا احساس ہوا ہے جو ہمارے اندر موجود ہے مگر وہ وجود نہیں ہے جو ہم سمجھا کرتے تھے۔ ہمیں اس وجود کے نقوش کو مٹانا پڑا ہے، نئے تقویٰ کے نقوش اس کومٹانا