خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 540
خطبات طاہر جلد 16 540 خطبہ جمعہ 18 جولائی 1997ء نظام جماعت کی جو سیکیورٹی ہے کیونکہ ساری جماعت اس میں حصہ دار ہے اس لئے اس کی کوئی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔ ایک دفعہ ایک ایسے دوست سے میری گفتگو ہوئی جو یورپ امریکہ وغیرہ میں سیکیورٹی کے نظام جانتے تھے۔ ان کو جب میں نے نظام جماعت کی سیکیورٹی کا انتظام سمجھایا تو وہ حیران رہ گئے ۔ انہوں نے کہا واقعتا اس جماعت کے سوا دنیا میں کہیں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ سارا Crowd جتنے بھی شامل ہونے والے ہوں وہ عملاً سیکیورٹی کے ممبر بن جاتے ہیں۔ ہر ایک کی آنکھیں کھلی ہیں۔ ہر ایک اپنے دائیں بائیں دیکھ رہا ہے اور یہ بات کسی اور دنیا کے نظام میں ممکن ہی نہیں خواہ بڑے سے بڑے پریذیڈنٹوں کی حفاظت ہو یا آنے والے مہمانوں کی ہو۔ یہ نظام کہیں اور جاری نہیں سوائے جماعت احمد یہ کے۔ اس نظام کو سمجھیں اور اپنے دماغ میں اور اپنے دل میں اس طرح سرایت کریں کہ آپ کی زندگی کا حصہ بن جائے۔ سیکیورٹی مائنڈ ڈ (Security Minded) ہونا ہر احمدی کا فرض ہے لیکن اخلاق فاضلہ کے ساتھ۔ اس سیکیورٹی مائنڈ ڈ ہونے کو یعنی حفاظت کے لحاظ سے ذہنی طور پر باشعور ہونا۔ اس کو سیکیورٹی مائنڈ ڈ کہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہرگز اخلاق کو اس پر قربان نہیں کرنا۔ یہ ایک امتزاج ہے جو مومن کی شان ہے اور یہ امتزاج ایک بڑا چیلنج ہے۔ بعض لوگ سیکیورٹی کی وجہ سے بداخلاق ہو جاتے ہیں اور بد تمیز ہو جاتے ہیں، دھکے دیتے ہیں دوسروں کو ، ہٹو اس طرف سے نہیں آنا۔ بعض لوگ اور بھی زیادہ بچھ جاتے ہیں لیکن جو بچھنے والے ہیں وہ زیادہ بہتر کام کرتے ہیں کیونکہ ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر وہ شخص جو نظام کو توڑتا ہے وہ بھی کچھ آگے سے نرم ہو جاتا ہے اور بچھتا ہے۔ مگر جس کو آپ ڈنڈے دکھائیں ، جس پر آپ زور چلائیں کہ ہم سیکیورٹی والے ہیں تم کون ہوتے ہو۔ وہ بداخلاق ہو جائے گا۔ وہ بعض دفعہ ایسی باتیں بھی کرے گا جس کو سننا آپ کے لئے مشکل ہوگا اور بعض دفعہ ایسے لوگ نظام کے قریب آتے آتے پھر دور بھی ہٹ جایا کرتے ہیں۔ چنانچہ مجھے اس سے واسطہ پڑتا ہے۔ بہت سے ایسے جانے والے ہیں یعنی انتظامات سے، خواہ یہاں سے جائیں یا امریکہ یا کینیڈا سے یا کسی اور ملک سے جرمنی وغیرہ سے واپس جائیں وہ اپنے تجربات میں مجھے شامل ضرور کرتے ہیں اور یہ بھی ایک ایسا نظام ہے جو دنیا میں کہیں اور رائج نہیں کہ وہ شخص جو آخری طور پر ذمہ دار ہے اس کو سارے جاننے والے اپنے تاثرات لکھتے ہیں اور ان میں بداخلاقی کے تاثرات بھی ہوتے ہیں، حسن خلق کے تاثرات بھی ہوتے ہیں، عظیم کردار کی مثالید مثالیں