خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 48
خطبات طاہر جلد 16 48 خطبہ جمعہ 17 جنوری 1997ء ص ہے تم اپنی صحت کا بھی خیال کرو۔ بھوکے رہتے ہو تو سارا دن یہ سوچ کر نہ گزارنا کہ جب روزہ ختم ہو گا تو پھر یہ یہ نعمتیں کھاؤں گا ، اتنا زیادہ کھاؤں گا کہ سارے روزے کی کسر مٹا دوں گا بلکہ آنحضرت فرماتے ہیں صوموا تصحوا (الطبراني في معجم الاوسط 8/174) روزے رکھوتا کہ تمہاری صحت اچھی ہو اور صحت اچھی تبھی ہو سکتی ہے کہ اگر آپ روزوں سے یہ سبق سیکھیں کہ ہم جو بہت زیادہ کھایا کرتے تھے بڑی سخت بے وقوفی تھی رمضان نے ہمیں یہ کھانے کا سلیقہ سمجھا دیا ہے۔ در حقیقت اس سے بہت کم پر ہمارا گزارہ ہو سکتا ہے جو ہم پہلے کھایا کرتے تھے تو اپنی خوراک بچاؤ اور اس کے ساتھ اپنی صحت کی حفاظت کرو۔ اب امر واقعہ یہ ہے کہ اس سے بہتر ڈائٹنگ کا اور کوئی طریق نہیں ہے جو روزوں نے ہمیں سکھایا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں کہ روزے میں کھانا کم کرنا لازم ہے کیونکہ کھانا کم کئے بغیر جو اعلیٰ مقصد ہے روزے کا وہ پورا نہیں ہو سکتا۔ یعنی صرف یہ نہیں کہ کچھ وقت بھوکے رہنا ہے بلکہ دونوں کناروں پر بھی صبر سے کام لو اور نسبتاً اپنی غذا تھوڑی کرتے چلے جاؤ۔ فرماتے ہیں اس کے بغیر انسان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں ہو سکتی ۔ ذکر الہی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ذکر الہی ایک روحانی غذا ہے اور روز روزمرہ مرہ کا کھانا ایک جسمانی غذا ہے۔ تو رمضان کی برکت یہ ہے یا روزوں کی برکت یہ ہے کہ وہ جسمانی غذا سے ہماری توجہ روحانی غذا کی طرف پھیر دیتے ہیں اور ذکر الہی میں ایک لطف آنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ روحانی لطف ہے جو آپ کی روح کو ترو تازہ کرتا ہے، اس کی مضبوطی کا انتظام کرتا ہے اور جسم پر جوزائد چر بیاں چڑھی تھیں ان کو پگھلاتا ہے۔ پس روزے کا امیروں کی صحت کے ساتھ بڑا بھاری تعلق ہے لیکن اگر امیر روزے کا انتقام دونوں کناروں پر لیں یعنی جب افطاری کریں تو اتنا کھائیں اور ایسی ایسی عجیب نعمتیں کھائیں کہ عام روز مرہ دنوں میں بھی وہ نہیں کھاتے تھے تا کہ روزے کا بدلہ اتارا جائے اور رات جو بیچ میں پڑے پھر دوسرے دن سحری کے وقت اس عزم کے ساتھ بیٹھیں کہ اب ہم نے بھوک کو قریب نہیں پھٹکنے دینا۔ اتنا کھائیں گے کہ صبح آنکھ کھلے تو عذاب بن جائے، معدے میں تیز اب ابل رہے ہوں۔ مصیبت پڑی ہوئی ہو اور پھر علاج سو کر کیا جائے تاکہ اور سوئیں اور اس مصیبت سے نجات ملے اور سوسو کر جس