خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 524
خطبات طاہر جلد 16 524 خطبہ جمعہ 11 جولائی 1997 ء ساتھ آسمان سے باتیں کرنے والے درخت ہیں جو پھیلیں جو پھیلیں گے اور ساری زمین پر غالب آسکتے ہیں اگر خدا چاہے۔ تو اس لئے اس کی طرف توجہ دیں اپنی مظلومیت اور صبر کی اقدار کی حفاظت کریں اور أَرْضُ اللهِ وَاسِعَةُ کی طرف نظر رکھیں ۔ خدا جب آپ کو پھیلاتا ہے اگر آپ نے صبر کا ساتھ پھیلا نا بند کر دیا اور خود اپنے ہاں متکبر ہو کے بیٹھ گئے تو اَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ آپ کے لئے نہیں رہے گی غیروں کے لئے بن جائے گی۔ پس دو طرح سے ہم نے زمیندارے میں دیکھا ایک تو یہ کہ جس فصل کی خاص نگہداشت کی جائے وہاں یہ گندا بوٹا ضرور پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوشش کرتا ہے کہ وہ کھیت کا خون چوس کر اس غیر کو پہنچا دیں جو مقصود نہیں ہے زمیندار کا اور کچھ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض زمینوں پر پہلے سے ہی گندی بوٹیاں قبضہ کر لیتی ہیں ان پر بڑی محنت کرنی پڑتی ہے اور اس محنت کے تعلق میں مجھے سندھ میں تجربہ ہوا جس میں کلر کا غلبہ بھی شامل تھا اور بوٹیوں کا بھی۔ میں جب تک وہاں ان زمینوں کا نگران تھا میں منتظمین کو یہ ہدایت کرتا رہا ہوں کہ اکٹھا ہاتھ نہ ڈالو کچھ کچھ حصے پر قبضہ کرو اور صبر کا ایک یہ بھی مضمون ہے۔ کام بہت بڑا ہے پچاس ہزار ایکڑ آپ نے اپنانے ہیں اور ان کو کاشت کر کے زمیندارے کو وہاں نفع مند بنانا ہے یہ کام ہے اگر صبر سے کام نہیں لیں گے تو جلدی کریں گے اور جلدی میں ایسی ایسی سکیمیں بناتے ہیں کہ سارا علاقہ ایک دم ہاتھ میں آجائے کبھی بھی نہیں آیا کرتا، کچھ بھی حاصل نہیں ہوا کرتا۔ تو جو باتیں میں اپنے منتظمین کو سمجھایا کرتا تھا وہ اب ساری جماعت کو سمجھا رہا ہوں کہ جن علاقوں میں دشمن نے گندگی پھیلا دی ہے ان کے بعض چھوٹے حصے خصوصیت کے ساتھ زیر نظر لائیں ، ان کی اصلاح کریں ، ان کی زمینوں کو صحت مند زمینیں بنا دیں اور ان کو اپنا لیں تو پھر خدا تعالیٰ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةُ کا ایک نیا معنی آپ کو عطا کرے گا اور آپ دیکھیں کہ ارد گرد کی جو منحوس زمین تھی وہ طیبہ زمین میں تبدیل ہونی شروع ہوئی ہے اور یہ ساری زمین اللہ کی زمین بن گئی ہے۔ اگر چہ اللہ ہی کی ہے مگر اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةُ کہنے میں ایک یہ بھی مضمون ہے کہ اصل میں اس کو اَرْضُ الله ہونا چاہئے اور یہ اَرْضُ اللہ نہیں رہی، یہ شیطان کی یا دشمن کی ہو چکی ہے تم نے اس سے چھینی ہے اور واپس لے کے خدا کے حضور پیش کرنی ہے۔ پس اس طرح ہر ملک میں اگر جماعت اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالے تو بہت سی گندی زمینیں ہیں۔