خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 520
خطبات طاہر جلد 16 520 خطبہ جمعہ 11 جولائی 1997 ء پس جماعت احمد یہ جب تک صبر پر قائم ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کا کوئی بھی بال بیکا نہیں کر سکتا کوئی بگاڑ نہیں سکتا لیکن تو کل ساتھ رکھیں یقین رکھیں خدا پر اور ناجائز حربے استعمال نہ کریں یہ دو شرطیں ہیں جو لازم ہیں۔ اگر یہ شرطیں آپ پکڑے رکھیں گے تو خدا کے فضل کے ساتھ ضرور پھیلتے چلے جائیں گے۔ اس آیت کے شروع میں اب جو چند باتیں ہیں وہ میں آپ کے سامنے کھول رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ يُعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ کہ اے میرے بندو، عباد مراد ہے اے میرے بندو الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ وہ میرے بندو جو ایمان لے آئے ہوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ لوگ جنہوں نے حسن عمل دکھایا ہے ان کو اس دنیا میں ہی حسن عمل کا اجر عطا کیا جائے گا۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ پس وہ انتظار کریں اور ان کے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ ان کا اجر دے گا اگر یہ بھی فرماتا تو صبر کی تلقین کے ساتھ یہ کہہ دیا جائے تو حرج کوئی نہیں مگر خدا اپنے بندوں کو عجیب صبر کی تلقین کرتا ہے ۔ صبر کی تلقین کرتے ہوئے ساتھ یہ وعدہ بھی فرماتا ہے کہ اس دنیا میں بھی ہم تمہیں تمہارے بہترین اعمال کا بہترین بدلہ دیں گے۔ پس یہاں صبر سے مراد مومن کا تو کل اور انتظار ہے اور قرآن کریم نے غیر مسلموں کے لئے لفظ صبر کا استعمال نہیں کیا۔ جہنمیوں کے لئے صبر کرویا نہ کرو فرق ہی کوئی نہیں پڑتا مگر انتظار کا محاورہ استعمال فرمایا ہے، وہ انتظار کر رہے ہیں تم بھی انتظار کرو مگر غیر مسلموں کے لئے صبر کا مضمون آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔ ان کو صبر آتا ہی نہیں اگر صبر آتا ہے ہو تو اپنی شکست کو تسلیم کریں اور دلائل کی رو سے اور محبت کے پیغام کے ذریعے وہ غالب آنے کی کوشش کریں یہ کھلا میدان ہے جو چاہے اس میدان میں آئے اور مقابلے کرلے ۔ ان کو چھوڑ نا بتاتا ہے کہ وہ صبر کر نہیں سکتے ، صبر ان کو آتا ہی نہیں ہے اور صبر نہ کرنے والوں کا کبھی نیک انجام نہیں ہوا۔ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم حسن عمل دکھاؤ ان معنوں میں نہیں کہ نتیجے کے لئے تمہیں مرنے کے بعد تک صبر کرنا پڑے گا۔ حسن عمل دکھاؤ اور صبر کرو تو اسی دنیا میں تمہاری آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے صبر کے نیک نتیجے نکلیں گے۔ تمہارے حسن عمل کے بہت خوبصورت نتائج تمہاری آنکھوں کے