خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 498 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 498

خطبات طاہر جلد 16 498 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء وہ لوگ جو کلام الہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں کچھ عرصے کے بعد قرآن کریم ان کو شک سے پاک دکھائی دینے لگتا ہے تو جو وہ محنت کرتے ہیں تقویٰ کے ساتھ جہاں لوگوں کے لئے شک ہے وہاں ان کے لئے شک دور ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ سب اندھیروں کو قرآن کریم اجالوں میں بدلنے لگتا ہے۔ ایسے مقام پر پھر خدا ایک حقیقت دکھائی دیتا ہے وہ غیب نہیں رہتا۔ اس کے متعلق سارے شکوک قرآن کریم باطل فرما دیتا ہے اور جب وہ خدا کو غیب ہوتے ہوئے یعنی اس کے دکھائی نہ دینے کے باوجود، اس کے سنائی نہ دینے کے باوجود، اس کے محسوس نہ ہونے کے باوجود اپنے حاضر پر ترجیح دیتے ہیں ان کا غیب ان پر قبضہ کر لیتا ہے۔ ایسے لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ یہ ہیں جن کی نمازیں سچی نمازیں ہیں اور پھر ان کو وَيُقِيمُونَ الصلوة کہہ کر فرمایا کہ وہ لوگ ہیں جو نماز کا حق ادا کرتے ہیں۔ سفر نماز ہی سے شروع ہوا کرتا ہے لیکن اس نماز کو جو روزمرہ اپنے گھروں میں پڑھتے ہیں یا مسجدوں میں بغیر خاص توجہ کے پڑھ لیتے ہیں ان کو قرآن کریم اقامة الصلوة نہیں فرماتا وہ مصلين ہیں جن کی مختلف حالتیں ہیں ۔ بعض نماز ادا کرنے والے ایسے ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان کو برکت ملتی ہے، رفتہ رفتہ ان کی نمازوں میں ترقی ہوتی ہے لیکن کچھ ایسے ہیں کہ جن کے متعلق فرمایا کہ نمازی تو ہیں مگر اللہ کی لعنت ہو ان پر ۔ پس ایسے نمازی بننا جن پر خدا لعنت ڈالتا ہے یہ کس حساب میں لکھا جائے گا۔ زندگی کا کیا مقصد ہے جو اس سے پورا ہوگا ۔ فرمایا فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون : 6،5) ہلاکت ہو، لعنت ہوا یسے نمازیوں پر جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ پس نماز کیلے بھی ہو سکتی ہے اس کو قیام نماز بھی کہیں مگر وہ نماز جس میں قیام کی کوشش کی جاتی ہے وہ نماز بالآخر ایسے مقام تک پہنچ جاتی ہے جس کے متعلق خدا فرماتا ہے وَيُقِيمُونَ الصَّلوة کہ وہ نماز کو قائم کرتے ہیں۔ اب نماز کے قیام کے لئے مسجدیں، جیسا کہ میں نے بیان کیا ضروری ہیں لیکن اور بہت سے ایسے کام ہیں جن کی طرف ہمیں متوجہ ہونا ہے اور متوجہ کرنا ہے۔ اکثر لوگوں کو میں نے دیکھا ہے جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو شاذ کی نمازیں ایسی ہیں جو مرکزی جلسوں یا خاص ماحول میں ادا کی جائیں۔ ان میں ان کے دلوں پر کچھ خضوع بھی آجاتا ہے، جذ بہ بھی پیدا ہو جاتا ہے لیکن اکثر نمازیں