خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 475
خطبات طاہر جلد 16 475 خطبہ جمعہ 27 جون 1997 ء ڈرانے کے علاوہ اپنوں کے اپنوں کو بھی ڈراتے تھے۔ ایک موقع پر بعض صحابہ نے مکہ کے ظلموں سے تنگ آ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اب تو حد ہوگئی ہے۔ ہم قوم کے سردار تھے اور عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، ہماری بات کو حکم سمجھا جاتا تھا ، آج یہ حال ہو گیا ہے کہ گلیوں کے لونڈے بھی ہم پر پتھر اٹھاتے اور آوازیں کستے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ خاموشی سے سنتے رہے اور جب انہوں نے بات ختم کر لی تو فرمایا دیکھو تم سے پہلے ایسے نبی تھے جن کے ماننے والوں کے سروں کو آروں سے چیرا گیا اور دو نیم کر دیا گیا اور انہوں نے اف تک نہیں کی تم جانتے ہو تم کس پر ایمان لائے ہو۔ سب نبیوں کے سردار پر ایمان لائے ہو یعنی یہ باتیں Implied ہیں جس کو کہتے ہیں نا آنحضور ﷺ کے بیان میں یہ سب باتیں شامل ہیں لیکن لفظوں میں بظاہر شاید کسی کو نہ صلى الله عليه۔ دکھائی دیں مگر اس کو غور سے پڑھیں اس جواب کو تو آپ لرز اٹھیں گے کہ اپنوں کو ڈرا رہے ہیں ، بتا رہے ہیں کہ مجھے قبول کرنے کے نتیجے میں اس سے زیادہ ظلم ہوں گے جو ظلم پرانے نبیوں کے زمانے میں نبیوں کے ماننے والوں پر کئے گئے ۔ تو ڈرانا تو برحق ہے مگر پھر بشارتیں بھی تو تھیں۔ ایسی بشارتیں کہ جیسی کسی نبی نے کبھی کسی کو کوئی بشارت نہیں دی قیامت تک کے لئے اپنی امت کی سر بلندی کی بشارتیں عطا فرمائیں۔ جنت میں اپنے آپ کو کوثر کے سردار کے طور پر پیش فرمایا اور فرمایا کہ میرے ہاتھوں سے تمہیں وہ کوثر کی مے پلائی جائے گی جس جیسی اور کوئی چیز دنیا میں نہیں ، نہ آئندہ دنیا میں ہو گی ۔ کوثر کا پلانا ایک ایسی سبیل ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی جس میں ہر قسم کی نعمتیں موجود ہیں یہ آنحضرت ﷺ نے صرف اپنے ساتھ وابستہ فرمائی ہے۔ یہ بات کسی اور نبی کے متعلق آپ نے بیان نہیں فرمائی۔ صلى الله پس جہاں مصیبتیں زیادہ ہیں وہاں نعمتیں بھی تو بہت بڑی ہیں اور عظیم الشان نعمتیں ہیں ان کی تفصیل میں جانے کا تو وقت نہیں ہے کیونکہ بڑے وسیع پیمانے پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی وہ فضیلتیں بیان فرمائی ہیں جن کو عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ ہی کی فضیلتیں ہیں لیکن ذرا غور کریں تو وہی فضیلتیں آپ کی اُمت کی فضیلتیں بھی بن جاتی ہیں اور اس حصے پر لوگ غور نہیں کرتے۔ وہ فضیلتیں جو حضرت اقدس محمد رسول الله ﷺ کو اللہ نے عطا فرمائیں وہ ساری ایسی ہیں جو آپ کی وساطت سے ساری امت تک پہنچتی ہیں ساری امت تک ممتد ہوتی ہیں اور ہر انسان ان سب رستوں پر چل چل کے تھوڑا ان فضیلتوں سے