خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 459

خطبات طاہر جلد 16 459 خطبہ جمعہ 20 جون 1997ء جب خشک موسم آتے ہیں تو پانی نیچے اترنے لگتے ہیں جب نیچے اترنے لگتا ہے تو کوئی دنیا کی طاقت بڑی سے بڑی طاقت بھی ہو ا تنا خرچ کر ہی نہیں سکتی کہ اسی پانی کو اٹھا کر اس سے اپنے رزق کے سامان بھی پیدا کرے اور پیاس بھی بجھائے ، وہ اتر تے اترتے اس مقام تک پہنچتا ہے کہ اس کو او پر آنا بہت مہنگا ہو جاتا ہے اور پھر غائب بھی ہو جایا کرتا ہے۔ تو یہ تفصیل ہے جو رزق سے تعلق رکھتی ہے۔ اس ایک ناشتے کے حوالے سے آپ رفتہ رفتہ بچوں کو ایسی باتیں بتا سکتے ہیں جو قانون قدرت میں ہر جگہ دکھائی دیتی ہیں ان کے لئے دلائل کی ضرورت نہیں ہے لیکن ان کو سمجھانا ضروری ہے۔ وہ سمجھیں اور ان کو بتائیں کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے سارے سامان کئے ہوئے ہیں اور خود غائب ہو گیا ہے۔ تم اسے ڈھونڈ واپنے تصور میں اور اس کا شکریہ ادا کرو پھر تمہیں لذت آئے گی کہ شکر یہ ہوتا کیا ہے اور جب تم شکر یہ ادا کرو گے تو وہ خدا تم پر اور زیادہ مہربان ہوگا ۔ یہ عبادت کا فلسفہ سکھانے کے لئے ابتدائی چیزیں ہیں۔ اس لئے بچے سے کہا جائے کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہو اگر تمہیں ساری نماز کا ترجمہ نہیں بھی آتا تو اس دن کی اچھی باتوں پر اللہ کا شکریہ ادا کر لیا کرو کہ اے اللہ تو نے آج میرے لئے یہ کیا ، مجھے بہت مزہ آیا۔ میں نے آج ٹھنڈا پانی پیا، میں نے کوکا کولا پی اور میں نے فلاں برگر کھایا جو بھی کھایا کرتے ہیں لوگ یہاں ، تو اس وقت سوچا تو کرو کہ اصل دینے والا کون ہے۔ اگر اس طرح بعض لذتوں کا تعلق دینے والے ہاتھ کے ساتھ قائم کر دیا جائے تو یہ عبادت کا پہلا فلسفہ ہے جو بچے کے دل میں جاگزیں ہوگا اور پھر اسے ایک اور ہاتھ ہے جو اٹھا لے گا جس کے متعلق میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بچہ جب پیار سے اپنے اللہ سے کوئی بات کرتا ہے تو میرا تجربہ ہے کہ اللہ ضرور اس کا جواب دیتا ہے اور ایک بچے کے دل میں اگر خدا کے لئے کوئی شکر پیدا ہو تو اللہ اس کے دس شکر ادا کرتا ہے اور ان معنوں میں وہ شکور ہے۔ اب حیرت کی بات ہے کہ اللہ تو ہر احسان کرنے والا اور ایسا وجود ہے جس کو کسی کے شکر کی ضرورت کوئی نہیں کوئی اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتا لیکن وہ شکر یہ کس بات کا ادا کرتا ہے، شکر کا شکریہ ادا کرتا ہے اور یہ چیز اس نے انسانی فطرت میں بھی رکھ دی ہے۔ پس بچوں کو سمجھانا ضروری ہے کہ دیکھو ایک بچہ تم سے کوئی اچھا سلوک کرے رستہ چلنے والا تمہیں ایک لفٹ ہی دے دیتا ہے تو کتنا تمہارے دل میں شکر یہ اٹھتا ہے اور جب تم شکریہ کرتے ہو تو وہ بھی آگے تمہارے شکریے کا شکریہ ادا کرنے لگ